ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گرافک ٹیسٹ

ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق حساس معلومات لیک ہونے پر پینٹاگون نے تحقیقات تیز کردیں۔ تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گرافک ٹیسٹ کیے گئے، تاہم مبینہ لیک کے ذمہ دار کی واضح شناخت نہ ہوسکی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی لیکس پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے
واشنگٹن: ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے جنگی اسلحے کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا کو لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات میں تقریباً 50 امریکی فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گرافک ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ اہلکاروں سے اگست کے دوران پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی لیے گئے۔ تحقیقات کا مقصد ان حساس معلومات کے اخراج کا سراغ لگانا ہے جن میں امریکی جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق تفصیلات سامنے آئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی معلومات میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز سمیت اہم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کی صورتحال سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔

ذرائع کے مطابق جن اہلکاروں کے پولی گرافک ٹیسٹ کیے گئے، ان میں سے کسی کے بارے میں ایسا واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر مبینہ لیک کے ذمہ دار شخص کی شناخت کی جاسکے۔

امریکی محکمہ دفاع نے مخصوص اہلکاروں کے نام یا تحقیقات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم حکام نے حساس اور خفیہ معلومات کے افشا کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حساس معلومات کے لیک ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے مبینہ لیک کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے اور معلومات کے اخراج کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
شائع ہوا: 5 ستمبر، 2026 کو 06:00 AM
آخری تدوین: 5 ستمبر، 2026



