امریکہ میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے خلاف کارروائی، گرین کارڈ درخواستیں روک دی گئیں

ٹرمپ انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوب، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو اور دیگر کمپنیوں کی بعض گرین کارڈ درخواستوں پر کارروائی روک دی۔ امریکی حکام نے مبینہ دھوکا دہی کی تحقیقات اور 9 جامعات کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن پالیسی سخت کرتے ہوئے مائیکروسافٹ، ایڈوب، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، وِپرو اور ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز سمیت متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بعض گرین کارڈ درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اس اقدام کو ویزا پروگرامز میں مبینہ دھوکا دہی اور امریکی شہریوں کے ملازمت کے مواقع کے تحفظ کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے ملازمت کی بنیاد پر مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہش مند ہزاروں غیر ملکی کارکن متاثر ہوسکتے ہیں۔
جے ڈی وینس کا امریکی کارکنوں کو ترجیح دینے پر زورامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور دھوکا دہی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض واقعات میں کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا، جبکہ اسی دوران غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل رہائش کی درخواستیں بھی جمع کرائیں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مائیکروسافٹ ایک بہترین امریکی کمپنی ہے، تاہم اسے بہترین امریکی کارکنوں کو بھی ملازمت دینا ہوگی۔
کن کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی؟امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ کے مطابق گرین کارڈ کے لیے مستقل لیبر سرٹیفکیشن کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا فیصلہ مائیکروسافٹ اور ایڈوب کے علاوہ کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپ جیمینی سمیت متعدد کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔
حکام کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کی نئی مستقل لیبر سرٹیفکیشن درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی، جبکہ پہلے سے زیر التوا درخواستوں پر بھی کارروائی روک دی گئی ہے۔
یہ اقدام خاص طور پر ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اہم ہے جو بیرون ملک سے ہنرمند کارکن بھرتی کرتی ہیں اور انہیں ملازمت کی بنیاد پر امریکی مستقل رہائش دلانے کے عمل میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
9 معروف امریکی جامعات بھی تحقیقات کی زد میںٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 معروف امریکی جامعات کے خلاف بھی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان جامعات نے ایکسچینج وزیٹر ویزا پروگرامز کے استعمال میں بے ضابطگیاں کیں، جس سے امریکی کارکنوں کی اجرتوں اور ملازمت کے مواقع پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
انتظامیہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امیگریشن پروگرامز کی نگرانی سخت کرنا اور امریکی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
PERM پروگرام کیا ہے اور گرین کارڈ پر کیا اثر پڑے گا؟امریکی محکمہ محنت کا مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام، جسے پی ای آر ایم (PERM) کہا جاتا ہے، ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے بیشتر معاملات میں ایک اہم مرحلہ ہے۔
اس عمل کے تحت آجر کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ غیر ملکی کارکن کو ملازمت دینے سے امریکی کارکنوں کی اجرت، کام کے حالات یا ملازمت کے مواقع پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ لیبر سرٹیفکیشن کی منظوری کے بعد متعلقہ معاملہ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) کے پاس اگلے مرحلے کے لیے جاتا ہے۔
درخواستوں پر کارروائی روکنے سے متاثرہ کمپنیوں کے غیر ملکی ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل میں تاخیر ہوسکتی ہے، تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ تمام موجودہ گرین کارڈ، ورک ویزا یا دیگر امیگریشن درخواستیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
امریکی امیگریشن پالیسی مزید سخت ہونے کا امکانیہ کارروائیاں ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امریکی امیگریشن پروگرامز پر بڑھتی ہوئی حکومتی نگرانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان اقدامات کے اثرات بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان کے غیر ملکی ملازمین اور امریکی ٹیکنالوجی شعبے میں کام کرنے والے دیگر پیشہ ور افراد پر بھی پڑسکتے ہیں۔
تاہم، متعلقہ کمپنیوں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی قانونی حیثیت اور تحقیقات کے حتمی نتائج کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ امریکی حکام اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
شائع ہوا: 9 اکتوبر، 2026 کو 07:27 AM
آخری تدوین: 9 اکتوبر، 2026



