سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس پر پاکستان میں الرٹ، پھیلاؤ کا خطرہ کم قرار

سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس کے بعد پاکستان میں بھی احتیاطی اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت طاعون پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے، جبکہ بارڈر ہیلتھ سروسز اور قومی ادارہ صحت کو الرٹ کردیا گیا ہے
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت طاعون پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے، تاہم صورت حال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایک بیان میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ روس کے شہر سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس سے متعلق عالمی ادارہ صحت کو بھی صورت حال کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ہے۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق پاکستان میں طاعون کے ممکنہ پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے بارڈر ہیلتھ سروسز کو تمام پوائنٹس آف انٹری پر الرٹ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے پاس طاعون کی تشخیص کی مکمل صلاحیت موجود ہے، جبکہ متعلقہ ادارے صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈی جی ہیلتھ نے کہا ہے کہ وفاقی وزارت صحت اور قومی ادارہ صحت طاعون کے مشتبہ کیس سے پیدا ہونے والی صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت طاعون کے پھیلنے کا خطرہ کم ہے، تاہم احتیاطی اور نگرانی کے اقدامات جاری رکھے گئے ہیں۔
شائع ہوا: 8 اکتوبر، 2026 کو 10:05 AM
آخری تدوین: 8 اکتوبر، 2026



