ویکسین خریداری میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن، تین ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد میں گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا ویکسین کے پانچ سالہ ٹھیکے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ، قومی خزانے کو 2 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں تین ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد: گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو 2 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کا عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان بی ایچ ایس کے ڈائریکٹر عابد شاہ، پردیپ کمار اور ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی ادارے نے ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے سات روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 27 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
پانچ سالہ ویکسین معاہدے میں مبینہ بے ضابطگیاں
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین کی خریداری کے پانچ سالہ ٹھیکے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غبن اور ایک مخصوص کمپنی کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے الزامات ہیں۔
تفتیشی ادارے کا دعویٰ ہے کہ مارکیٹ سروے اور مختلف کمپنیوں کی بولیوں کا تقابلی جائزہ لیے بغیر واحد بولی دہندہ کمپنی میڈیسنز فارما کنیکٹ کو ٹھیکہ دیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
ریکارڈ اور دیگر ملزمان کی نشاندہی کے لیے ریمانڈ
ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ویکسین کی خریداری سے متعلق ریکارڈ، سرکاری خط و کتابت اور دیگر شواہد برآمد کرنے کے لیے ملزمان سے مزید تفتیش ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد اور سہولت کاروں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔
سرکاری خریداری کے نظام پر سوالات
ویکسین کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے اس معاملے نے سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت، مسابقتی بولی کے طریقۂ کار اور عوامی صحت کے لیے مختص وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ معاملہ قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچانے اور سرکاری خریداری کے نظام میں جواب دہی کے حوالے سے اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔
تاہم ملزمان کے خلاف الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور جرم ثابت ہونے تک انہیں قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
شائع ہوا: 21 اکتوبر، 2026 کو 12:33 PM
آخری تدوین: 21 اکتوبر، 2026



