امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی توقع کم ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت کے لیے ایران کی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ایرانی وزیر دفاع نے بھی دفاعی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا
تہران: ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو مذاکرات میں پیشرفت کے لیے تہران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور امریکہ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ وہ ایرانی شرائط پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو واشنگٹن کے امن سے متعلق دعوؤں پر اعتماد نہیں ہے۔
عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے معاملے میں امریکی اقدامات کو بنیادی اہمیت دے رہا ہے اور کسی بھی پیشرفت کو اپنی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط سمجھتا ہے۔
دفاعی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ
دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع مہر داد اخلاقی نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین سے دستبردار ہونے کے بجائے ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع بنیادی ترجیح ہے۔
ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ خطرات کا جواب محض بیانات سے نہیں بلکہ دفاعی تیاری، طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور علاقائی صورتحال
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی نمایاں مقدار گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے متعلق حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ پیشرفت کے لیے سفارتی رابطوں، شرائط اور عملی اقدامات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی ترجیح دے رہا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اعتماد کی بحالی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال مستقبل کے سفارتی عمل میں اہم عوامل رہیں گے۔
شائع ہوا: 22 اکتوبر، 2026 کو 05:48 AM
آخری تدوین: 22 اکتوبر، 2026



