سعودی آرامکو آئل فیلڈ اور دمام ایئرپورٹ پر حملے، 3 ہلاک، پاکستانی سمیت 8 زخمی

سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں 3 افراد ہلاک اور پاکستانی شہری سمیت 8 زخمی ہوگئے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کے بعد امریکہ نے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ اور غیر ضروری عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت کردی
ریاض: سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک اور پاکستانی شہری سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعات کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ امریکہ نے سعودی عرب سمیت متعدد خلیجی ممالک میں اپنے سفارتی عملے سے متعلق احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون یا اس کے ماخذ کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں پانچ ڈرون مار گرائے گئے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق مشرقی صوبے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو روکنے کی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے تھا، جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔
امریکہ کا سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں سفارتی عملے کے لیے انتباہ
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکی وزارتِ خارجہ نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ نے متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں بھی اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ یہ اقدامات خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہونے اور خصوصاً یمن کے حوثیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی کے خدشات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید حملوں کے امکان سے متعلق سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔
فرانسیسی صدر کی ریاض آمد، محمد بن سلمان سے ملاقات
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اپنے خلیجی دورے کے دوران اچانک ریاض کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
فرانسیسی صدارتی محل ایلیزیے کے مطابق ملاقات کا مقصد سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں فرانس کی یکجہتی کا اظہار اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے تعاون کو فروغ دینا تھا۔
فرانسیسی صدر اس دورے کے دوران کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر بھی جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد میخواں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی سربراہِ مملکت بن گئے ہیں۔
مصر کی سعودی عرب کو فوجی مدد کی پیشکش، یمن میں مداخلت سے انکار
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد کی پیشکش کا مقصد صرف سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، اس میں یمن پر حملہ کرنا شامل نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصر کسی بھی عرب ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ متعلقہ ملک کی جانب سے مدد کی درخواست کی جائے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کے دوران مصری صدر کا تحریری پیغام بھی وصول کیا۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عباس عراقچی کا انتباہ، یمن میں بیرونی فوجی مداخلت سے گریز کیا جائے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہو سکتی ہے۔
عراقچی کے مطابق مصر پہلے ہی ایران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم اب تک سعودی عرب یا حوثی جماعت کی جانب سے اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے عالمی اثرات
سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے حملوں، امریکی سفارتی عملے کے لیے جاری ہدایات اور عالمی رہنماؤں کی سرگرمیوں سے خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نمایاں ہو رہے ہیں۔
سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی تیل کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ یمن میں ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں سعودی عرب، امریکہ، مصر، فرانس اور ایران کے سفارتی اقدامات اور علاقائی رابطے آئندہ پیش رفت کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
شائع ہوا: 22 اکتوبر، 2026 کو 06:22 AM
آخری تدوین: 22 اکتوبر، 2026



