بیرسٹر گوہر کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کا اعلان، محسن نقوی کو جواب

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔ محسن نقوی کو اندرونی باتیں سامنے نہ لانے کا مشورہ، مذاکرات کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے کا بھی عندیہ دے دیا
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت حکومت کے اس اقدام کو قبول نہیں کرتی۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اندر کی باتیں اندر ہی رہنے دیں تو بہتر ہے، ورنہ پی ٹی آئی کے پاس بھی مذاکرات میں ہونے والی گفتگو سامنے لانے کا حق موجود ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اور اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے ٹرین حادثے کی مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے لانگ مارچ ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ مذاکرات میں سیاسی معاملات پر بات ہونی چاہیے تھی، لیکن گفتگو کے دوران دہشت گردی کا معاملہ سامنے آگیا۔
محسن نقوی کو بیرسٹر گوہر کا جواب
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے سے متعلق نوٹیفکیشن کو ان کی جماعت تسلیم نہیں کرتی۔
محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بہت سی باتیں منظرِ عام پر نہیں آنی چاہیے تھیں اور وفاقی وزیر داخلہ کو مذاکرات کے دوران ہونے والی گفتگو کو اندر ہی رکھنا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اندرونی باتیں منظرِ عام پر لائی جاتی ہیں تو پی ٹی آئی کے پاس بھی یہ حق ہے کہ وہ بتائے کہ مذاکرات کے دوران کیا ہوا تھا۔
بیرسٹر گوہر کے اس بیان کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج کے معاملے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پر سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
شائع ہوا: 14 اکتوبر، 2026 کو 02:20 PM
آخری تدوین: 14 اکتوبر، 2026



