مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جا سکتے: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا
اسلام آباد :وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کا ایجنڈا ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دینا رہا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ 2014 سے شروع ہوا، جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں 126 روزہ دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مسلسل اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے
جا رہے ہیں، جبکہ کسٹمز اور پولیس اہلکار دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں شہید ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول ایک طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں اور دوسری جانب صوبائی حکومت لوگوں کو لانگ مارچ کے لیے اکٹھا کر رہی تھی، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں اب تک چند ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوسکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منتظمین نے لانگ مارچ کی آڑ میں کروڑوں روپے کمائے۔
سہیل آفریدی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر کوئی اپنی جان خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، کروڑوں پختونوں کو اس صورتحال سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف قومی پالیسی پہلے سے موجود ہے اور اس پر عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ ملک میں کوئی نیا بڑا آپریشن نہیں ہو رہا اور نہ ہی لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہیں گے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیے نے افغان حکومت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم افغانستان اس کی ضمانت دینے پر آمادہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 40 سال سے افغانستان، طالبان، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے معاملات سے نمٹ رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف پی ٹی آئی کے علاوہ پوری قوم میں اتفاق رائے ہے۔ رانا ثناء اللہ نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف اب تک کتنے اجلاس کیے ہیں۔
شائع ہوا: 7 اکتوبر، 2026 کو 09:29 AM
آخری تدوین: 7 اکتوبر، 2026



