چاند کے پراسرار غار کی تلاش، ناسا کے نئے مشن کی حمایت

ناسا نے چاند کے میریئس ہِلز پٹ کے نیچے ممکنہ قدیم غار یا لاوا ٹیوب کی تلاش کے لیے نئے تحقیقی مشن کی حمایت کر دی۔ ریڈار، زلزلہ پیما اور دیگر سائنسی آلات سے چاند کی زیرِ زمین ساخت کا جائزہ لیا جائے گا
چاند کی سطح کے نیچے موجود ممکنہ قدیم غاروں اور لاوا ٹیوبز کے راز جاننے کے لیے ناسا نے ایک نئے تحقیقی منصوبے کی حمایت کر دی ہے۔ اس مشن کے ذریعے چاند کے مشہور میریئس ہِلز پٹ کا براہِ راست جائزہ لیا جائے گا۔
اس منصوبے کا نام ’’جِم لی‘‘ (JIMI) ہے، جس کا مکمل نام ’’جیو فزیکل انویسٹی گیشن آف دی میریئس ہِلز پٹ لاوا ٹیوب اینڈ انٹیریئر‘‘ ہے۔ منصوبے کی قیادت پلینٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ کر رہا ہے اور اسے ناسا کے ’’پے لوڈز اینڈ ریسرچ انویسٹی گیشنز آن دی سرفیس آف دی مون‘‘ پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔
میریئس ہِلز پٹ چاند کے قریب والے حصے میں ایک قدیم آتش فشانی علاقے میں واقع ہے۔ یہ گڑھا تقریباً 34 میٹر گہرا جبکہ 65 بائی 90 میٹر چوڑا ہے۔ اگرچہ خلائی مشاہدات سے اس گڑھے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے نیچے کوئی وسیع زیرِ زمین غار یا قدیم لاوا ٹیوب موجود ہے یا نہیں۔

مشن کے دوران زیرِ زمین ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ریڈار، زلزلہ پیما سینسرز اور کششِ ثقل کی پیمائش کرنے والے آلات استعمال کیے جائیں گے۔ کیمروں کی مدد سے چاند کی سطح اور گڑھے کی اندرونی دیواروں کی تصاویر بھی حاصل کی جائیں گی۔
سائنس دان مختلف آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرکے یہ معلوم کریں گے کہ آیا میریئس ہِلز پٹ کے نیچے کوئی خالی جگہ یا زیرِ زمین راستہ موجود ہے اور کیا یہ گڑھا کسی قدیم لاوا ٹیوب سے منسلک ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اربوں سال پہلے چاند پر ہونے والی آتش فشانی سرگرمی کے دوران لاوے کے بہاؤ سے زیرِ زمین سرنگ نما ڈھانچے بن سکتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان میں سے بعض مضبوط اور محفوظ زیرِ زمین راستوں میں تبدیل ہو گئے ہوں گے۔

ممکنہ لاوا ٹیوبیں چاند کی قدیم آتش فشانی تاریخ سمجھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی انسانی موجودگی کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ چاند کی سطح پر شدید درجہ حرارت، تابکاری اور خلائی ذرات کے اثرات کے مقابلے میں زیرِ زمین ڈھانچے نسبتاً بہتر قدرتی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
اگر جِم لی مشن میریئس ہِلز پٹ کے نیچے لاوا ٹیوب کی موجودگی ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ چاند کی آتش فشانی اور اندرونی ساخت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گا، جبکہ مستقبل میں چاند پر انسانی مراکز کے لیے قدرتی زیرِ زمین پناہ گاہوں کے امکانات بھی مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 7 اکتوبر، 2026 کو 11:58 AM
آخری تدوین: 7 اکتوبر، 2026



