بچوں کی خفیہ ویڈیوز بنانے والے سابق امریکی جمناسٹک کوچ کو 90 سال قید

امریکی ریاست مسیسیپی میں سابق جمناسٹک کوچ سین گارڈنر کو کم عمر بچوں کی خفیہ ویڈیوز بنانے کے جرم میں 90 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ ایف بی آئی کی تحقیقات، الیکٹرانک آلات سے ویڈیوز کی برآمدگی اور ممکنہ متاثرین کی شناخت کے لیے اقدامات کی تفصیلات جانیے
امریکا: امریکی ریاست مسیسیپی کی عدالت نے کم عمر بچوں کی خفیہ ویڈیوز بنانے کے جرم میں سابق جمناسٹک کوچ سین گارڈنر کو 90 سال قید کی سزا سنا دی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم اپنے جم میں بچوں کے کپڑے تبدیل کرنے اور واش روم استعمال کرنے کے دوران خفیہ ریکارڈنگ کرتا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 39 سالہ سین گارڈنر کا تعلق ریاست آئیووا کے شہر ویسٹ ڈیس موئنز سے ہے۔ وہ ماضی میں مسیسیپی کے علاقے پوروس میں جمناسٹک کوچ کے طور پر کام کرتا تھا، جہاں اس پر کم عمر کھلاڑیوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور خفیہ ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہوا۔
حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب سینٹر فار سیف اسپورٹ کو کوچ کے نامناسب رویے سے متعلق شکایات موصول ہوئیں۔ بعد ازاں یہ شکایات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی گئیں، جس کے بعد ایف بی آئی اور مقامی پولیس نے مشترکہ تحقیقات شروع کردیں۔
تفتیش کے دوران ملزم کی رہائش گاہ سے متعدد الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے گئے۔ فرانزک معائنے کے دوران ان آلات سے کم عمر بچوں کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں، جن میں بعض بچوں کی عمریں 12 سال سے بھی کم تھیں۔ حکام کے مطابق بعض ریکارڈنگز خفیہ کیمروں کے ذریعے بنائی گئی تھیں اور برآمد شدہ فائلوں میں 2017 اور 2018 کی ویڈیوز بھی شامل تھیں۔

امریکی اٹارنی جے ای بیکسٹر کروگر نے سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے والے افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔
ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ انچارج رابرٹ اے ایکہوف نے کہا کہ ملزم نے بچوں اور ان کے خاندانوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ایف بی آئی بچوں کے استحصال میں ملوث افراد کی شناخت اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتی رہے گی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ ایف بی آئی نے ان والدین کی معاونت اور معلومات کے حصول کے لیے ایک ویب سائٹ بھی قائم کی ہے جن کے بچے ماضی میں ملزم سے تربیت حاصل کر چکے تھے، تاکہ ممکنہ طور پر دیگر متاثرہ بچوں کی شناخت بھی کی جا سکے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مقدمے کی پیروی معاون امریکی اٹارنی کمبرلی پرڈی اور لی اسمتھ نے کی۔ یہ کیس پروجیکٹ سیف چائلڈہڈ کے تحت چلایا گیا، جس کا آغاز 2006 میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔
شائع ہوا: 17 اکتوبر، 2026 کو 08:14 AM
آخری تدوین: 17 اکتوبر، 2026



