ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نقشوں پر اتفاق

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے نئے نقشوں پر اتفاق کر لیا۔ ایرانی عہدیدار محسن رضائی کے مطابق آئندہ چند روز میں معاہدے پر دستخط ہوں گے اور آبنائے ہرمز کے باہر نیا محدود زون قائم کیا جائے گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہونے، امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور نئے اینٹی شپ میزائل کے تجربے سے متعلق اہم دعوے بھی کیے ہیں
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے نقشوں اور راستوں پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا محدود زون قائم کرنے کا اعلان بھی متوقع ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان اس حوالے سے معاہدے پر آئندہ چند روز میں دستخط کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے باہر پابندی والے زون کا اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔
محسن رضائی کے مطابق ایران آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے باہر ایک نیا محدود زون قائم کرے گا، جو امریکی بحریہ کی مبینہ ناکہ بندی لائن سے خلیج فارس کے بعض حصوں تک پھیلا ہوگا۔ اس زون میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند اور ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھلا ہونے کا دعویٰ درست نہیں۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قبل روزانہ 100 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، تاہم اب صرف 7 سے 8 بحری جہاز ضروری اشیا لے کر گزر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا بھاری اخراجات کے عوض 5 سے 6 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزار رہا ہے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران نے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا کر ڈبونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم ایران نے نیا اینٹی شپ میزائل کامیابی سے آزمانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ میزائل تجربہ 48 گھنٹے قبل ایک امریکی بحری جنگی جہاز کے خلاف کیا گیا، جس کے بعد خصوصی میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی بحری جہاز وہاں سے روانہ ہوگیا۔
شائع ہوا: 7 ستمبر، 2026 کو 01:47 AM
آخری تدوین: 7 ستمبر، 2026



