ایران کے رہنما مارے جا چکے، کسی کو معلوم نہیں ملک کون چلا رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اہم رہنما مارے جا چکے ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ اس وقت ایران کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے فیصلہ سازی کے نظام سے بخوبی واقف ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اہم رہنما مارے جا چکے ہیں اور اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ ایران کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، ایرانی قیادت کا پہلا گروپ ختم ہوچکا جبکہ دوسرا گروپ بھی باقی نہیں رہا۔ ان کے بقول، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس وقت ایران کو کون چلا رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے روز امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا، تاہم حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ ایران میں اس کا فریق کون ہے اور ملک میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ امریکی حکام کے متضاد بیانات اور پالیسی پیغامات ہیں۔
اس سے قبل میری لینڈ روانگی سے قبل گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی ترسیل اب جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر کی جا رہی ہے۔ خطے میں جاری جنگ کے باوجود متبادل راستوں کے ذریعے خلیج سے ایندھن اور تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی وزیر کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس معیشت نہیں اور نہ ہی تیل موجود ہے۔
شائع ہوا: 7 اکتوبر، 2026 کو 10:10 AM
آخری تدوین: 7 اکتوبر، 2026



