یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا اعلان

کشمیری رہنما اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات کا مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کردیا، تاہم الزامات اور جرم تسلیم کرنے کی تردید کی ہے
سری نگر: گزشتہ سات سال سے بھارتی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات کا مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاسین ملک کو بھارتی فورسز نے 10 اپریل 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف 1990 میں ایک نرس کے مبینہ اغوا اور قتل سے متعلق مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔
کشمیری رہنما نے اپنے وکیل ابو عادل پنڈت کے ذریعے ایڈیشنل سیشن کورٹ سری نگر میں 25 صفحات پر مشتمل تحریری بیان جمع کروایا، جس میں انہوں نے طویل قید، تنہائی اور اہل خانہ سے برسوں کی جدائی کا ذکر کیا۔
یاسین ملک نے بیان میں کہا کہ وہ کئی برسوں سے اپنی اہلیہ اور بیٹی سے رابطہ نہیں کر سکے اور کافی غور و فکر کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مقدمے کی مزید پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کا دفاع نہ کرنے کے فیصلے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ استغاثہ کے الزامات یا اپنے خلاف عائد کیے گئے جرم کو تسلیم کر رہے ہیں۔
یاسین ملک نے اپنے تحریری بیان میں استغاثہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سیاسی حالات کے باعث جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر جے کے ایل ایف کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ پر بھی سوالات اٹھائے، جسے استغاثہ اہم ثبوت قرار دیتا ہے۔
انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی دادی سے رابطے میں رہیں۔ یاسین ملک کے مطابق انہوں نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز رکھ دی ہے اور باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔
تحریری بیان میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اب وہ مقدمے کا دفاع نہیں کریں گے اور عدالت ان سے متعلق جو بھی فیصلہ کرنا چاہے، کرسکتی ہے۔
بھارتی حکام سے ماضی کے مذاکرات کا بھی ذکر
یاسین ملک نے اپنے بیان میں سال 2000 کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق اس دور میں انہوں نے اجیت ڈوول سمیت متعدد بھارتی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے امریکا میں ان کے علاج کے لیے 50 ہزار ڈالر کی منظوری دی تھی، تاہم انہوں نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔
اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان
یاسین ملک نے اپنے تحریری بیان میں اپنی اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کے فیصلے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے طویل عرصے تک قید اور اہلیہ سے رابطہ نہ ہونے کا حوالہ دیا اور جیل میں قید رہنے کے دوران نیلسن منڈیلا کی ازدواجی زندگی سے متعلق مثال بھی پیش کی۔
کشمیری رہنما کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک اہل خانہ سے جدائی اور رابطے کے فقدان کے باعث انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
شائع ہوا: 3 ستمبر، 2026 کو 03:57 PM
آخری تدوین: 3 ستمبر، 2026



