وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
دُنیا

یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا اعلان

W
Web Desk
3 ستمبر، 2026
یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا اعلان

کشمیری رہنما اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات کا مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کردیا، تاہم الزامات اور جرم تسلیم کرنے کی تردید کی ہے

سری نگر: گزشتہ سات سال سے بھارتی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات کا مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاسین ملک کو بھارتی فورسز نے 10 اپریل 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف 1990 میں ایک نرس کے مبینہ اغوا اور قتل سے متعلق مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

کشمیری رہنما نے اپنے وکیل ابو عادل پنڈت کے ذریعے ایڈیشنل سیشن کورٹ سری نگر میں 25 صفحات پر مشتمل تحریری بیان جمع کروایا، جس میں انہوں نے طویل قید، تنہائی اور اہل خانہ سے برسوں کی جدائی کا ذکر کیا۔

یاسین ملک نے بیان میں کہا کہ وہ کئی برسوں سے اپنی اہلیہ اور بیٹی سے رابطہ نہیں کر سکے اور کافی غور و فکر کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مقدمے کی مزید پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کا دفاع نہ کرنے کے فیصلے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ استغاثہ کے الزامات یا اپنے خلاف عائد کیے گئے جرم کو تسلیم کر رہے ہیں۔

یاسین ملک نے اپنے تحریری بیان میں استغاثہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سیاسی حالات کے باعث جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر جے کے ایل ایف کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ پر بھی سوالات اٹھائے، جسے استغاثہ اہم ثبوت قرار دیتا ہے۔

انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی دادی سے رابطے میں رہیں۔ یاسین ملک کے مطابق انہوں نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز رکھ دی ہے اور باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔

تحریری بیان میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اب وہ مقدمے کا دفاع نہیں کریں گے اور عدالت ان سے متعلق جو بھی فیصلہ کرنا چاہے، کرسکتی ہے۔

بھارتی حکام سے ماضی کے مذاکرات کا بھی ذکر

یاسین ملک نے اپنے بیان میں سال 2000 کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔

ان کے مطابق اس دور میں انہوں نے اجیت ڈوول سمیت متعدد بھارتی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے امریکا میں ان کے علاج کے لیے 50 ہزار ڈالر کی منظوری دی تھی، تاہم انہوں نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔

اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان

یاسین ملک نے اپنے تحریری بیان میں اپنی اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کے فیصلے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے طویل عرصے تک قید اور اہلیہ سے رابطہ نہ ہونے کا حوالہ دیا اور جیل میں قید رہنے کے دوران نیلسن منڈیلا کی ازدواجی زندگی سے متعلق مثال بھی پیش کی۔

کشمیری رہنما کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک اہل خانہ سے جدائی اور رابطے کے فقدان کے باعث انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 3 ستمبر، 2026 کو 03:57 PM

آخری تدوین: 3 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین

پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات میں اہم پیش رفت، سفیر سلمان شریف کی جرمن صدر سے ملاقات
تازہ ترین

پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات میں اہم پیش رفت، سفیر سلمان شریف کی جرمن صدر سے ملاقات

پاکستان کے سفیر سلمان شریف نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کو سفارتی اسناد پیش کر دیں۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، گرین ٹیکنالوجی اور پاک جرمنی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا

Web Desk19 اکتوبر، 2026
کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، ہزاروں سکھوں کی شرکت، اگلا مرحلہ مارچ 2027 میں آسٹریلیا میں ہوگا
تازہ ترین

کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، ہزاروں سکھوں کی شرکت، اگلا مرحلہ مارچ 2027 میں آسٹریلیا میں ہوگا

کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد، ہزاروں سکھوں کی شرکت، پنجاب کی آزادی کے حق میں ووٹنگ اور اگلے مرحلے کے لیے مارچ 2027 میں آسٹریلیا کا اعلان

قرةالعَین حیدر19 اکتوبر، 2026
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خالصتان ریفرنڈم کا آغاز، ایڈمنٹن میں سکھ برادری کی دعائیہ تقریب میں بھرپور شرکت
تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خالصتان ریفرنڈم کا آغاز، ایڈمنٹن میں سکھ برادری کی دعائیہ تقریب میں بھرپور شرکت

کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے آغاز پر سکھ برادری نے دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔ سکھ خاندانوں نے قیامِ خالصتان کے لیے خصوصی دعائیں کیں

قرةالعَین حیدر18 اکتوبر، 2026