لگ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معاملات ایمرجنسی کی طرف جارہے ہیں: شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معاملات ایمرجنسی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ صوبے میں معاملات ایمرجنسی کی طرف جارہے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا وہی کریں گے جو انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے کہا جائے گا۔
سیاسی مذاکرات کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوتاپیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ سیاسی لوگوں کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں، اس لیے وہ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے یا بند۔
شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی چاہتی تھی کہ کوئی راستہ نکلے اور پیپلز پارٹی کا بھی یہی مؤقف تھا، تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔
فریقین کو مثبت رویے کی طرف لانے کی کوشش کیشیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر ماحول پیدا کرنے اور دونوں فریقین کو اچھے رویے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے مسودے کا ایک حصہ انسداد دہشتگردی کے حوالے سے تعاون پر مبنی تھا۔
ان کے مطابق مذاکرات کے دوسرے روز اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بااختیار ہے۔
عمران خان کے علاج اور ڈاکٹر تک رسائی کی یقین دہانیشیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور ڈاکٹر تک رسائی کے حوالے سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ضروری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔
شائع ہوا: 6 اکتوبر، 2026 کو 04:49 AM
آخری تدوین: 6 اکتوبر، 2026



