لاہور مبینہ زیادتی کیس: آذربائیجان کی خاتون نے ملزم کو بے قصور قرار دے دیا

لاہور میں مبینہ زیادتی کیس میں آذربائیجان کی خاتون ڈیانا نے ویڈیو بیان میں احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا۔ پولیس کا مؤقف مختلف، ملزم کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی
لاہور: لاہور میں مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا نے اپنے نئے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنویر نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی۔ خاتون نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا۔
خاتون نے مقدمے میں نامزد دیگر دو ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔
دوسری جانب ڈی آئی جی ذیشان رضا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خاتون کا بیان ریکارڈ کروا کر مقدمے کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق خاتون کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت پہلے ہی عدالت میں ریکارڈ ہو چکا ہے، جس میں وہ تینوں ملزمان کے خلاف زیادتی کا بیان دے چکی ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق گرفتار دو ملزمان بھی تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ادھر مقدمے میں نامزد ملزم احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔ احاطۂ عدالت میں پولیس اور ملزم کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس ملزم اور اس کے ساتھیوں کو تھانے منتقل کر دیا۔
ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ عبوری ضمانت ہونے کے باوجود ان کے مؤکل کو حراست میں لیا گیا۔
کیس میں خاتون کے تازہ ویڈیو بیان اور عدالت میں پہلے ریکارڈ کرائے گئے بیان کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ مقدمے کی مزید کارروائی اور عدالتی فیصلے سے ہی قانونی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
شائع ہوا: 24 اکتوبر، 2026 کو 06:08 AM
آخری تدوین: 24 اکتوبر، 2026



