پی ٹی آئی کارکنان کو بڑا ریلیف، لانگ مارچ کے تمام ملزمان مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران گرفتار تمام کارکنان کو تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکریٹریٹ کے مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔ وکلاء نے گرفتاریوں اور شناخت پریڈ میں تاخیر پر اعتراضات اٹھائے
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے دوران گرفتار تمام کارکنان کو مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ شناخت پریڈ کے معاملے پر سماعت کے دوران کیا۔
کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے شناخت پریڈ کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔
کارکنان کے وکیل سردار مصروف نے مؤقف اختیار کیا کہ گرفتاریوں کو 40 روز سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن پولیس ہر سماعت پر التوا کی درخواست کر رہی ہے اور کارکنان کو عدالت میں پیش بھی نہیں کیا جا رہا۔
وکیل مرتضیٰ طوری نے عدالت کو بتایا کہ کارکنان بے گناہ ہیں اور انہیں جان بوجھ کر گرفتار کیا گیا۔ وکیل زاہد بشیر ڈار نے بھی کارکنان کی بے گناہی کا مؤقف اپناتے ہوئے گزشتہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کی استدعا کی۔
وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے تمام کارکنان کو متعلقہ مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کو تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمات کے سلسلے میں شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا۔
شائع ہوا: 17 اکتوبر، 2026 کو 08:45 AM
آخری تدوین: 17 اکتوبر، 2026



