وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026: ٹیکنالوجی و تجارت میں نئے امکانات

W
Web Desk
22 اکتوبر، 2026
پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026: ٹیکنالوجی و تجارت میں نئے امکانات

واشنگٹن ڈی سی میں پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کی تیسری تقریب منعقد ہوئی، جس میں 16 پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، امریکی ٹیک ماہرین اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ سفیر رضوان سعید شیخ نے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور مشترکہ سرمایہ کاری کو دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا

واشنگٹن، 21 اکتوبر 2026: امریکہ میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے تجارتی مواقع بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی و کاروباری شراکت داری کی نئی راہیں ہموار کرنے کے مقصد سے پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کی تیسری تقریب سفارت خانہ پاکستان، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں 16 معروف پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، امریکی ٹیکنالوجی ماہرین، سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں نے بھرپور شرکت کی۔

پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کا یہ ایڈیشن سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی، پاکستانی قونصل خانوں اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ سلیکون ویلی اور ڈیلاس کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں اس تقریب کا انعقاد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں متعارف کرانے اور ان کے لیے نئے تجارتی روابط قائم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سلسلے کا اگلا ایونٹ 23 اکتوبر کو شکاگو میں منعقد ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک-امریکہ دوطرفہ تعلقات کو انسدادِ دہشت گردی سے آگے بڑھاتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون کی جانب نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کے بعد آئی ٹی کے میدان میں دونوں ممالک کی شراکت داری بھی مثالی اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں اور نمایاں مقام کو امریکی مارکیٹ میں ایک مؤثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے دفاع اور سفارت کاری کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، تاہم اب معیشت کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے اور اب معاشی میدان میں بھی اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مسابقتی کاروباری ماڈلز اور سازگار تکنیکی ماحول پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مستحکم مقام حاصل کرنے کے لیے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکی تکنیکی ماہرین اور کاروباری اداروں کے تجربات، مہارت اور جدید طریقہ ہائے کار سے استفادہ کرنا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بنے گی۔

سفیر پاکستان کے مطابق پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں اور گریجویٹس اپنے متعلقہ شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ تاہم، ان کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری، جدید مہارتوں کے حصول اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور بڑے اداروں میں امریکی سرمایہ کاری اور شراکت داری پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کی فنی تربیت، جدید مہارتوں کا فروغ اور جدت پر مبنی نظامِ تعلیم بھی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

تقریب کے دوران پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیڈی نے پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی عالمی مارکیٹ میں کارکردگی کا جائزہ پیش کیا اور مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے روشن امکانات کو اجاگر کیا۔

سفارت خانہ پاکستان میں تعینات ٹریڈ منسٹر حنیف چنا نے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات اور پاکستانی کمپنیوں کے لیے دستیاب کاروباری مواقع پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تجارتی تعلقات مستحکم بنانے اور پاکستانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سفارت خانہ پاکستان، پاکستان کے ایکسپورٹ پروموشن اداروں اور اوپن گوگل کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی عالمی طلب پاکستانی کمپنیوں کے لیے نئے تجارتی اور برآمدی مواقع پیدا کر رہی ہے۔

پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کی واشنگٹن تقریب میں اگنائٹ، اوپن ڈی سی، سسٹمز لمیٹڈ، 10 پرلز، ٹی ایم سی اور ٹیکلوجکس سمیت 16 معروف پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ ان کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز نے اپنے اداروں کے آپریشنز، تکنیکی صلاحیتوں اور پاکستان کے مجموعی آئی ٹی ایکو سسٹم کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔

اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں نمایاں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی خدمات، صلاحیتوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی برآمدی صلاحیت کو امریکی ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ ٹھوس کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا اور مستقبل میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پیدا کرنا تھا۔

سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان اپنی قومی تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر اس کی قبولیت اور اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل مصنوعات اور کم لاگت کے معیاری تکنیکی حل پیش کرکے عالمی مارکیٹ میں اپنی ساکھ مضبوط کر رہا ہے۔

انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔

تقریب کے اختتام پر شریک آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں نے سفیر پاکستان اور سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کا شکریہ ادا کیا اور اس پلیٹ فارم کو بامعنی کاروباری روابط، تجربات کے تبادلے اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔

پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 سیریز پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور امریکہ کے ساتھ طویل مدتی تکنیکی و تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ شکاگو میں 23 اکتوبر کو ہونے والا اگلا ایونٹ اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 22 اکتوبر، 2026 کو 04:57 AM

آخری تدوین: 22 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین

ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملے کا اشارہ، انتخابات کے بعد نئی کارروائی کا منصوبہ
امریکا

ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملے کا اشارہ، انتخابات کے بعد نئی کارروائی کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد دوبارہ حملے کا امکان ظاہر کردیا۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی کارروائی کی منصوبہ بندی کرلی ہے

Web Desk23 اکتوبر، 2026
نیویارک میں پاک لانچ کانفرنس، پاکستانی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس عالمی توجہ کا مرکز
امریکا

نیویارک میں پاک لانچ کانفرنس، پاکستانی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس عالمی توجہ کا مرکز

نیویارک کے ییل کلب میں پاک لانچ یو این کانفرنس کا انعقاد، پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی شرکت۔ مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس اور عالمی سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال

Web Desk22 اکتوبر، 2026
امریکا کو بھی پاکستان سے تعلقات کی ضرورت ہے، جیسے بھارت کیلئے ایران اہم ہے: مارکو روبیو
تازہ ترین

امریکا کو بھی پاکستان سے تعلقات کی ضرورت ہے، جیسے بھارت کیلئے ایران اہم ہے: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جیسے بھارت کے لیے ایران سے تعلقات ضروری ہیں، ویسے ہی امریکا کو پاکستان کے ساتھ روابط کی ضرورت ہے۔ روبیو کے مطابق پاکستان سے بات چیت کے ذریعے بھارت کے خدشات دور کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے

Web Desk21 اکتوبر، 2026