وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

کے پی میں گورنر راج کے خلاف درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر

W
Web Desk
16 اکتوبر، 2026
کے پی میں گورنر راج کے خلاف درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر

پشاور ہائیکورٹ نے بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کردیں، درخواست گزاروں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی ہیں۔ عدالت نے درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواستوں میں وفاق پاکستان، صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

گورنر راج کے خلاف درخواست گزاروں کے کیا مؤقف ہیں؟

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنا امتیازی سلوک ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو جواز بنا کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے باوجود خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کے مطابق پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن کے قیام کی حمایت کرتی ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

درخواست گزاروں نے یہ بھی مؤقف اپنایا ہے کہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

آرٹیکل 232 اور 234 پر عمل درآمد کا مطالبہ

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2024 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کی، اس لیے گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 میں درج تقاضوں اور طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔

درخواست گزاروں نے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین کے آرٹیکل 232 اور متعلقہ پارلیمانی تقاضوں کے مطابق جانچنے کی استدعا بھی کی ہے۔

درخواستوں میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کو پی ٹی آئی کے خلاف جواز بنایا جا رہا ہے، جبکہ لانگ مارچ کے دوران کسی غیر قانونی اقدام کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔

ان کے مطابق آئینی اور جمہوری احتجاج کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنا قابلِ اعتراض ہے۔

عدالت سے کیا استدعا کی گئی؟

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، جس سے عوام کے بنیادی حقوق اور جمہوری مینڈیٹ متاثر ہوتے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اقدامات کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ درخواستوں کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیا جائے۔

عدالت نے درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 09:20 AM

آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان، شہداء پیکج بھی بڑھا دیا گیا
تازہ ترین

خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان، شہداء پیکج بھی بڑھا دیا گیا

گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق پولیس شہداء کے ورثاء کو پلاٹ کے بجائے نقد رقم دی جائے گی، دورانِ ڈیوٹی زخمی اہلکاروں کے لیے معاوضہ 15 لاکھ اور مستقل معذوری کی صورت میں 50 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں

Web Desk16 اکتوبر، 2026
پی ٹی آئی مثبت آئینی و قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ
تازہ ترین

پی ٹی آئی مثبت آئینی و قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مثبت آئینی اور قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی، اپوزیشن کے طرزِ عمل اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ پالیسی کی ضرورت پر بھی اظہارِ خیال کیا

Web Desk16 اکتوبر، 2026
لانگ مارچ روکنا تھا، روک دیا گیا، اب چیزیں واپس ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر
تازہ ترین

لانگ مارچ روکنا تھا، روک دیا گیا، اب چیزیں واپس ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ روکنا مقصود تھا تو روک دیا گیا، اب حالات معمول پر لائے جائیں۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے، آئینی ریلیف ملنے اور سہیل آفریدی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کا بیان بھی دیا

Web Desk16 اکتوبر، 2026