پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بینچ میں شامل ہیں۔ عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز سمیت اسلام آباد کے انتظامی افسران کو بھی طلب کرلیا
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست کی سماعت کے لیے 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
لارجر بینچ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے علاوہ جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہوں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے گزشتہ سماعت کا تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرلز (آئی جیز) کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔
تاجر کی درخواست پر کارروائی
تحریری حکم نامے کے مطابق ایک تاجر نے پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانون پہلے سے موجود ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے، اس لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
27 ستمبر کو احتجاج کا اعلان
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اہلخانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی نہ دیے جانے کے معاملے پر 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے درخواست کی اہمیت کے پیش نظر لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے اور وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو بھی عدالت طلب کرلیا ہے۔
شائع ہوا: 9 ستمبر، 2026 کو 12:28 PM
آخری تدوین: 9 ستمبر، 2026



