ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی آپشنز برقرار رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے تہران کی معاشی صورتحال، مہنگائی اور افراطِ زر پر بھی سخت تنقید کی۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز اور خطے پر امریکی کنٹرول سے متعلق بھی اہم دعویٰ کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ ایسی ڈیل کے لیے تیار نہیں جسے امریکا درست معاہدہ سمجھتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کے باوجود امریکا کے فوجی آپشنز محدود نہیں ہوئے اور تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں مہنگائی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور ایران کے پاس مالی وسائل کی شدید کمی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے پاس مؤثر بحریہ اور فضائیہ بھی نہیں جبکہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر نے ایران میں افراطِ زر کی شرح 350 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکا صرف صورتحال پر نظر رکھے گا اور دیکھے گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ کنٹرول آبنائے ہرمز کے علاوہ اس سے متصل زمینی علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
شائع ہوا: 22 اگست، 2026 کو 06:56 AM
آخری تدوین: 22 اگست، 2026



