پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026: رضوان سعید شیخ کی امریکی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
محمد نعیم اختر21 اکتوبر، 2026
ڈیلاس میں پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور طویل مدتی کاروباری شراکت داریوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی
ڈیلاس، ٹیکساس: امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے میں سرمایہ کاری، تکنیکی تعاون اور طویل مدتی کاروباری شراکت داریوں کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پاک۔امریکہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔
سفیر پاکستان نے ان خیالات کا اظہار ڈیلاس، ٹیکساس میں منعقدہ پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں پاکستان کی 13 معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں، امریکی کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی خریداروں اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ کانفرنس سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی، قونصل خانہ پاکستان ہیوسٹن، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ اس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کی رسائی بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تجارتی و تکنیکی شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی برآمدی منڈی ہے، رضوان سعید شیخ
سفیر پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ عالمی ٹیکنالوجی کا ایک اہم مرکز اور پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی برآمدی منڈی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل معیشت کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت ملک کا ایک اہم قومی اثاثہ ہے۔ پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو ملک کے مستقبل کے معمار اور عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں پاکستان کی ترقی کے لیے ایک اہم قوت ہیں۔

رضوان سعید شیخ نے پاکستانی آئی ٹی شعبے کی استعداد، تکنیکی مہارت اور مسابقتی برتری کو اجاگر کرتے ہوئے امریکی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں موجود سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد صرف پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صلاحیتوں اور خدمات کو متعارف کرانا نہیں، بلکہ عالمی معیار کے مطابق بامعنی تجارتی روابط قائم کرنا اور ان روابط کو ٹھوس کاروباری مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی پر بھی زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط بڑھانے، پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور مسابقتی ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر متعارف کرانے اور عالمی سطح پر پاکستانی آئی ٹی صنعت کی ساکھ مزید مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کرے۔
سفیر پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سفارت خانہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تکنیکی تعاون، سرمایہ کاری میں سہولت اور طویل مدتی تجارتی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستانی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ، پی ایس ای بی
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پاکستانی آئی ٹی صنعت کی مسلسل ترقی، عالمی مسابقتی صلاحیت اور برآمدی امکانات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 70 ہزار آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس گریجویٹس تیار کرتا ہے، جو ملک کی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے ہنرمند افرادی قوت فراہم کرتے ہیں۔

پی ایس ای بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اوسطاً 21 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ستمبر 2026 میں آئی ٹی برآمدات تقریباً 435 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے امریکہ کو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی اہم ترین بین الاقوامی منڈی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ سرمایہ کاروں کی معاونت، کاروباری رکاوٹوں کے حل اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے متعلقہ اداروں، بشمول اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی میں پاکستانی کمپنیوں کی صلاحیتوں کا مظاہرہ
کانفرنس کے دوران شریک پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور انٹرپرائز سلوشنز سمیت جدید ٹیکنالوجی کے اہم شعبوں میں اپنی مہارت اور خدمات پیش کیں۔
کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنی بین الاقوامی کاروباری کامیابیوں، جدید ڈیجیٹل حل اور عالمی صارفین کے ساتھ قائم کامیاب روابط کے حوالے سے پریزنٹیشنز دیں۔ ان کا مقصد امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا اور تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنا تھا۔

کانفرنس میں کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس سلسلے میں پاکستانی کمپنیوں کو امریکی کارپوریٹ عہدیداروں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی خریداروں اور ممکنہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے مواقع فراہم کیے گئے۔
ڈیلاس۔فورٹ ورتھ اور ریاست ٹیکساس کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری نمائندوں نے بھی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے اور مستقبل میں مشترکہ کاروباری منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی۔
واشنگٹن ڈی سی اور شکاگو میں آئندہ کانفرنسیں
پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 سیریز کے تحت آئندہ کانفرنسیں 21 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی اور 23 اکتوبر 2026 کو شکاگو میں منعقد ہوں گی۔
اس سیریز کا بنیادی مقصد امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی اور مسابقتی حیثیت کو مستحکم کرنا، پاکستانی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع بڑھانا اور جدید ڈیجیٹل معیشت میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینا ہے۔

ڈیلاس میں کانفرنس کا انعقاد پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں روابط مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان دیرپا شراکت داریوں کی بنیاد رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 21 اکتوبر، 2026 کو 02:26 AM
آخری تدوین: 21 اکتوبر، 2026



