سلمان اکرم راجہ نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار نہیں، حکومت کے ارادے مختلف تھے
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے الزام کو مسترد کردیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سہیل آفریدی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار نہیں بلکہ حکومت کے ارادے کچھ اور تھے۔سلمان اکرم راجہ کے مطابق حکومت کی جانب سے 72 گھنٹوں کے اندر خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کی گئی تھی، جس پر پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ ایمرجنسی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور ان کی رائے میں کوئی اختلاف نہیں تھا، جبکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے منگل کو ملاقات کی تیاری ظاہر کی گئی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کے علاج کا معاملہ
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی اور ان کے خاندان کی مرضی کے مطابق کرایا جائے، تاہم حکومت کا مؤقف تھا کہ علاج آئین اور قانون کے مطابق ہی ہوگا۔
سلمان اکرم راجہ نے ایک اور بیان میں کہا کہ حکومت مذاکرات میں مشاورت اور اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
محسن نقوی کا مؤقف
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں تقریباً تمام معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
یوں مذاکرات کی ناکامی سے متعلق حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بیانات میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے، جہاں حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی کے کردار پر سوال اٹھایا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
شائع ہوا: 5 اکتوبر، 2026 کو 06:17 AM
آخری تدوین: 5 اکتوبر، 2026



