لانگ مارچ کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا، کنجی عمران خان کے پاس ہے: شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا اور اسے ختم کرنے کی کنجی عمران خان کے پاس ہے۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقاتوں کی پابندی ختم کرنے، انہیں اسپتال منتقل کرنے، گرفتار خواتین کی رہائی اور حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کیا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ جاری ہے اور کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا، مارچ ختم کرنے کی کنجی اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعظم میڈیا پر مذاکرات، مذاکرات نہ کھیلیں، اگر حکومت کے پاس اختیارات ہیں تو پی ٹی آئی کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کی جائے، انہیں اسپتال منتقل کیا جائے، ان کے کیسز کی سماعت کی جائے اور عمران خان کی بہنوں سمیت تمام گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما نے سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ منفی پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی مینڈیٹ چھیننے سے ختم نہیں ہوگی۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو آج بھی دعوت دیتے ہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھایا جائے اور مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے۔
شوکت یوسفزئی نے خبردار کیا کہ اگر سہیل آفریدی کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو قبائلی علاقوں میں بھی تشویش پیدا ہوگی، جو ان کے بقول ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا اور اس سے دہشتگردی میں بھی کمی نہیں آئے گی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے گورنر کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو طلب کرنے کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد گورنر کے اختیارات محدود ہیں۔ ان کے مطابق نہ ایمرجنسی لگی ہے اور نہ گورنر راج نافذ ہوا ہے، تو پھر گورنر کو اتنی جلدی کیوں ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ گورنر راج کی دھمکی وہ لوگ دے رہے ہیں جن کی اپنی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ اگر حکومت واقعی دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے تحریک انصاف کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تمام مسائل کے حل کا ایک ہی فارمولا ہے، اور وہ بیرسٹر گوہر کا فارمولا ہے: مذاکرات، مذاکرات اور مذاکرات۔
شائع ہوا: 7 اکتوبر، 2026 کو 10:25 AM
آخری تدوین: 7 اکتوبر، 2026



