امریکا کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، امریکی عہدیدار

وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی کا کہنا ہے کہ امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب فوکس نیوز کے سروے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے 64 فیصد امریکیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا
واشنگٹن: امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکا کا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔
اینا کیلی سے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایرانی حکومت کے خاتمے سے متعلق مبینہ منصوبوں پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران معاشی اور فوجی دونوں اعتبار سے انتہائی خراب حالت میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ برقرار رہے گی اور آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل ریکارڈ سطح پر جاری رہے گی۔ ان کے بقول، امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے اور جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ایران میں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں وائٹ ہاؤس کا تازہ بیان اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف مستقبل میں ممکنہ اقدامات اور ناکہ بندی سے متعلق امریکی پالیسی کے اثرات پر صورت حال بدستور توجہ کا مرکز ہے۔
وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی
دوسری جانب امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عوامی مقبولیت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ فوکس نیوز کے ایک سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی سے 64 فیصد امریکیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 36 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سروے میں 55 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کو مسترد کیا۔
سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی انتظامیہ کو ایران سے متعلق پالیسی، اقتصادی صورت حال اور مہنگائی جیسے معاملات پر عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں یہ مسائل سیاسی بحث کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 21 اکتوبر، 2026 کو 03:01 AM
آخری تدوین: 21 اکتوبر، 2026



