امریکا کا ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان، عراقی بینک اور مالیاتی نیٹ ورکس بھی نشانے پر

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ایران سے تعلق کے الزام میں ایک عراقی بینک اور مشرق وسطیٰ و ایشیا میں قائم مالیاتی نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران پر مالی دباؤ جاری رکھا جائے گا تاکہ اس کی فوجی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کیے جا سکیں
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک عراقی بینک اور مشرق وسطیٰ و ایشیا میں قائم متعدد مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی نشانے پر لے لیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ نئی پابندیاں آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ (Operation Economic Outcast) کے تحت عائد کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایران سے تعلق کے باعث کیے گئے ہیں۔
ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق، نئی پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایرانی حکومت کے مالی وسائل تک رسائی کو روکنا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت کے گرد مالیاتی گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے اور واشنگٹن تہران پر معاشی دباؤ جاری رکھے گا۔
فوجی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل روکنے کا عزم
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت ایرانی حکومت کو فوجی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل سے محروم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اتحادی بھی اسے معاشی مشکلات سے نہیں بچا سکتے۔
امریکی پابندیوں کے اس تازہ اعلان سے ایران سے منسلک مالیاتی اداروں اور نیٹ ورکس پر واشنگٹن کے دباؤ میں مزید اضافے کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے ایرانی معیشت اور علاقائی مالیاتی سرگرمیوں پر عملی اثرات کا انحصار پابندیوں کے دائرہ کار اور ان پر عمل درآمد پر ہوگا۔
شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 06:31 AM
آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026



