امریکا میں ندال ملک حسن کی سزائے موت 3 دسمبر کو براہِ راست نشر کرنے کا اعلان
محمد نعیم اختر9 اکتوبر، 2026
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فورٹ ہُڈ فائرنگ کیس میں مجرم قرار دیے گئے سابق میجر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے اور کارروائی براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے منسوب ایک اعلان کے مطابق فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 2009 میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث سابق امریکی فوجی میجر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت 3 دسمبر کو براہِ راست نشر کی جائے گی۔
امریکی فوج کے سابق میجر ندال ملک حسن کو 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 32 دیگر کو زخمی کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اب سامنے آنے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی سزائے موت کی کارروائی عوام کے سامنے براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ندال ملک حسن نے یہ فائرنگ اس وقت کی تھی جب انہیں چند ہفتوں بعد افغانستان میں تعینات کیا جانا تھا۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اور بعد ازاں وہیل چیئر تک محدود ہوگئے۔
فوجی عدالت نے اگست 2013 میں ندال ملک حسن کو قتل اور اقدامِ قتل کے 45 الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔
فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا فیصلہرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سابق فوجی افسر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سزائے موت کی کارروائی 3 دسمبر کو براہِ راست نشر کی جائے گی۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا عوام کے سامنے پھانسی کی کارروائی لانے سے متعلق بیان درست ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
اگر اس اعلان پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ امریکی فوجی نظام میں ایک غیر معمولی اقدام ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ندال ملک حسن 1945 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت پانے والے پہلے شخص ہوں گے۔
امریکی وزیر دفاع کا بیان
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو ’ریئل امریکا وائس‘ کے پروگرام ’ہیومن ایونٹس ڈیلی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ندال ملک حسن کی سزائے موت کو عوام کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس وقت اس منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
ہیگسیتھ کے مطابق ندال ملک حسن کو فورٹ ہُڈ میں جمعرات کی دوپہر ایک بجے سزائے موت دینے کا فیصلہ کرنا مشکل نہیں تھا، کیونکہ 2009 میں فائرنگ کا واقعہ بھی اسی مقام پر، ہفتے کے اسی دن اور تقریباً اسی وقت پیش آیا تھا۔
اس معاملے میں سزائے موت کی تاریخ، براہِ راست نشریات اور انتظامی تفصیلات سے متعلق حتمی صورتِ حال کی تصدیق کے لیے پینٹاگون اور متعلقہ امریکی حکام کے سرکاری اعلانات کا جائزہ ضروری ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 9 اکتوبر، 2026 کو 04:42 AM
آخری تدوین: 9 اکتوبر، 2026



