بھارت میں ’کاکروچ‘ تحریک کا احتجاج، جنتر منتر پر پولیس کریک ڈاؤن

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اور طلبہ تنظیموں نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ نئی دہلی کے جنتر منتر پر پولیس نے مظاہرین کو روک دیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت الزامات کی تردید کر چکے ہیں
اسی موضوع سے پڑھیں
نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے دوران نئی دہلی کے جنتر منتر پر پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
رائٹرز کے مطابق ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں مظاہرین بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

دہلی میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور دیگر سیاسی و سول سوسائٹی کارکنوں نے جنتر منتر کی جانب جانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے مظاہرین کو روک دیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج سمیت متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی اور جنتر منتر سمیت اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کی گئی۔ احتجاجی مقام تک جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پارٹی نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر دوبارہ احتجاج کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے، اگر گیانیش کمار مستعفی نہ ہوئے۔

یہ تحریک رواں برس نوجوانوں میں بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے افشا کے خلاف احتجاج سے نمایاں ہوئی تھی۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے موجودہ احتجاج کا مرکزی معاملہ ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیاں اور الیکشن کمیشن کے کردار پر اعتراضات ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کسی غلط کاری کی تردید کرتے ہوئے ووٹر فہرستوں سے متعلق عمل کا دفاع کیا ہے۔
شائع ہوا: 3 اکتوبر، 2026 کو 05:46 AM
آخری تدوین: 3 اکتوبر، 2026



