مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ میں کوئی مطالبہ غیر آئینی نہیں: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کو بھیجے گئے پی ٹی آئی کے مذاکراتی مطالبات میں کوئی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ رات گئے جاری ڈرافٹ کا مقصد پہلے سے طے شدہ مسودے کو سبوتاژ کرنا تھا
اسی موضوع سے پڑھیں
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیے گئے مطالبات بھی جاری کیے۔
پی ٹی آئی کے مطالبات میں وزیراعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں شامل ہیں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات چیت اور دو ماہ کے اندر مؤثر پیش رفت یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسرے مطالبے کے تحت حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جو سیاسی معاملات اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ میں قابلِ عمل حل کے لیے سفارشات پیش کرے۔
مطالبات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین اور آئین کے مطابق قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جہاں قانون اجازت دے، ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو مدنظر رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اہل خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم مسودے کے مطابق ان ملاقاتوں کو قانوناً ممنوع سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔
مطالبات میں عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں سمیت دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق 10 دن میں کارروائی شروع یا مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سیاسی قیدی خواتین کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور امن و امان کے حوالے سے پی ٹی آئی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل مشاورت کی تجویز دی ہے۔ مسودے میں 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس کرکے دہشتگردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے واضح اور قابلِ عمل حکمت عملی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی نے اپنے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھنے کی بات کی ہے۔
محسن نقوی کا ردعملوزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جاری مطالباتی مسودے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رات گئے تقریباً نصف شب ایک مسودہ گردش میں لایا گیا، جس کا بظاہر مقصد پہلے سے طے شدہ ڈرافٹس کو سبوتاژ کرنا تھا۔
محسن نقوی کے مطابق مذاکراتی ٹیموں نے حکومت کے ساتھ ایک الگ مسودے کو حتمی شکل دی تھی اور دونوں فریق مذاکراتی ٹیموں کے حتمی مسودے پر متفق ہوئے تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق عملدرآمد پلان بھی طے کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے اتفاق رائے سے الگ مسودہ اور دہشتگردی سے متعلق عملدرآمد پلان تیار کیا گیا۔
یوں مذاکرات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف مسودوں اور ان میں شامل نکات کا ذکر سامنے آیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان اتفاق رائے کی حتمی صورت حال ابھی واضح ہونا باقی ہے۔
شائع ہوا: 4 اکتوبر، 2026 کو 08:19 AM
آخری تدوین: 4 اکتوبر، 2026



