سانحہ پمز: حکومت کا جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

سانحہ پمز کے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے حکومت نے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دیں
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سانحہ پمز میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت غمزدہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ مالی معاوضہ قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں، کیونکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔
حکومت کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا مقصد ان کی مشکلات کو کسی حد تک کم کرنا اور غم کی اس گھڑی میں ان کا ساتھ دینا ہے۔ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
سانحہ پمز کی تحقیقات جاری
دوسری جانب وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے سانحہ پمز کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے فائر بریگیڈ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے افسران سمیت ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے عملے کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے آگ لگنے کے وقت سے لے کر ریسکیو ٹیموں کے جائے وقوعہ پر پہنچنے تک کے واقعات کی ٹائم لائن کا بھی جائزہ لیا۔
کمیٹی نے فائر بریگیڈ کے رسپانس اور کارروائی کا جائزہ لینے کے علاوہ ریسکیو آپریشن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات سے متعلق بھی معلومات حاصل کیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان
وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری شاہد خان ہیں۔ کمیٹی میں میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی شامل ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سانحے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے اسباب، ریسکیو کارروائی اور متعلقہ اداروں کے رسپانس سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
شائع ہوا: 28 اگست، 2026 کو 05:00 AM
آخری تدوین: 28 اگست، 2026



