حنا پرویز بٹ کے بیانات حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں: عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے حنا پرویز بٹ کے بیانات کو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم، سی سی ڈی کی کارروائیوں اور ایک بچے کے قتل کیس سے متعلق اہم انکشافات بھی کیے
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مسلم لیگ (ن) کی رکنِ صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بعض باتیں نہ صرف ان کے لیے مسئلہ بنتی ہیں بلکہ حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن جاتی ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں کہ حنا پرویز بٹ کتنی سنجیدہ ٹوئٹس کرتی ہیں، تاہم بعض اوقات وہ ناسمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں اور حکومت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر پولیس کی کارروائیاں
عظمیٰ بخاری نے پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات میں پولیس کو فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے صرف دو گھنٹے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کے قیام کے بعد پنجاب میں جرائم میں کمی آئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج نے بچے کے قتل کا معاملہ واضح کیا
صوبائی وزیر اطلاعات نے ایک بچے کے قتل کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج موجود نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ بچے کے قتل کو ٹریفک حادثہ قرار دے دیا جاتا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچے کے والد کے انتقال کے بعد رشتے داروں نے اسے اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ آج بہت سے رشتے دار سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس وقت کوئی بھی ان دو بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق بچے کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی اور وہ صرف دو وقت کی روٹی کے عوض ایک شخص کے پاس کام کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے نے تین مرتبہ اس شخص سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔
ملزم حراست سے فرار ہوا، دوسرے ملزم کی تلاش جاری
وزیر اطلاعات پنجاب نے بتایا کہ ملزم کے بارے میں رپورٹ تھی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد پسندانہ رویہ رکھتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم حراست سے فرار ہوگیا تھا اور دو افراد اسے چھڑانے کے لیے آئے تھے۔ ملزم کے فرار کے بعد ناکہ بندی کی گئی اور اس کا تعاقب بھی کیا گیا، جبکہ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ نہ رکے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے دوران گزشتہ ایک سال میں سی سی ڈی کے سات اہلکار شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ملزم کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص تاحال مفرور ہے۔
بچوں اور خواتین پر تشدد کے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اجلاس
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا اور اس بات پر سوال اٹھایا کہ ایسے جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کا تحفظ حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اور متعلقہ اداروں کی فوری کارروائی ضروری ہے۔
شائع ہوا: 22 اکتوبر، 2026 کو 06:30 AM
آخری تدوین: 22 اکتوبر، 2026



