وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

لارک جزیرے پر حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں امریکی اڈے اور خلیج میں بحری جہاز نشانے پر

W
Web Desk
31 اگست، 2026
لارک جزیرے پر حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں امریکی اڈے اور خلیج میں بحری جہاز نشانے پر

ایران نے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں اردن میں دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ خلیج میں بحری جہازوں پر بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں

ایران نے اپنے جزیرے لارک پر امریکی فورسز کے حملے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر کارروائی کے ردعمل میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا ہدف بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کارروائی لارک جزیرے پر امریکی حملے کا براہِ راست جواب تھی۔

امریکا کا میزائل حملے سے متعلق مؤقف

دوسری جانب امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تقریباً تمام میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق اردن میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

لارک جزیرے پر امریکی کارروائی کیا تھی؟

یہ پیشرفت اس کارروائی کے بعد سامنے آئی جس میں امریکی فورسز نے ایران کے لارک جزیرے پر پاسداران انقلاب کے دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فورسز ان لانچرز کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی فوجی کشیدگی سے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

ایرانی جانی نقصان کے دعوے

پاسداران انقلاب نے امریکی حملے کے نتیجے میں متعدد ایرانی اہلکاروں اور شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔

خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

لارک جزیرے پر امریکی کارروائی اور اس کے بعد ایران کی جانب سے اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

صورتحال میں مزید پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے کی کارروائیوں کا کیا جواب دیتے ہیں۔ خلیج میں بحری سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 31 اگست، 2026 کو 03:04 AM

آخری تدوین: 31 اگست، 2026

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی مثبت آئینی و قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ
تازہ ترین

پی ٹی آئی مثبت آئینی و قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مثبت آئینی اور قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی، اپوزیشن کے طرزِ عمل اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ پالیسی کی ضرورت پر بھی اظہارِ خیال کیا

Web Desk16 اکتوبر، 2026
لانگ مارچ روکنا تھا، روک دیا گیا، اب چیزیں واپس ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر
تازہ ترین

لانگ مارچ روکنا تھا، روک دیا گیا، اب چیزیں واپس ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ روکنا مقصود تھا تو روک دیا گیا، اب حالات معمول پر لائے جائیں۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے، آئینی ریلیف ملنے اور سہیل آفریدی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کا بیان بھی دیا

Web Desk16 اکتوبر، 2026
پنجاب اے آئی دور میں داخل، خیبرپختونخوا پتھر کے دور میں ہے: مریم نواز
پاکستان

پنجاب اے آئی دور میں داخل، خیبرپختونخوا پتھر کے دور میں ہے: مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ساہیوال میں لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں داخل ہو رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا پتھر کے دور میں ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے پنجاب میں الیکٹرک بسوں، اے آئی لیبز، لیپ ٹاپ اسکیم اور عوامی سہولتوں سے متعلق منصوبوں کا ذکر کیا

Web Desk16 اکتوبر، 2026