وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر9 اکتوبر، 2026
اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قانونی کمیٹی میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آگئے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قانونی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جبکہ دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قانونی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر لفظی جھڑپ ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو خطے میں دہشت گردی کی حمایت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یہ گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں، جبکہ پاکستان نے بھارت پر بھی ان کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اسلام آباد دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر محدود اور انتہائی درست کارروائیاں کی ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے جوابی مؤقف اختیار کیا۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے فرسٹ سیکریٹری راگھو پوری نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا ملک اور دہشت گردی سے متاثرہ ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے بھی بھارت کے مؤقف پر ردعمل دیا گیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے کونسلر محمد جواد اجمل نے بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور افغانستان میں طالبان حکام کے ساتھ تعاون کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں بھارتی شہری کلبھوشن جادھو کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔

قانونی کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی جانب سے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر دہشت گردی کے خاتمے، بین الاقوامی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی۔

تاہم، اجلاس میں سامنے آنے والے الزامات دونوں ممالک کے نمائندوں کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ شواہد اور اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 9 اکتوبر، 2026 کو 04:00 AM

آخری تدوین: 9 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین