لارڈز ٹیسٹ: عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر پی سی بی کا اسکائی اسپورٹس سے احتجاج

لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کا انٹرویو نشر کرنے پر پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس سے احتجاج کیا۔ ذرائع کے مطابق انٹرویو رکوانے کے لیے کھلاڑیوں کے میدان میں واپس نہ آنے کے آپشن پر بھی غور کیا گیا
لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے پہلے روز سابق وزیراعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ احتجاج کیا۔
سابق انگلش کپتان اور اسکائی اسپورٹس کے براڈکاسٹر مائیک ایتھرٹن نے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کیا تھا، جو بعد ازاں 18 منٹ دورانیے کے پروگرام کی صورت میں نشر کیا گیا۔
کھلاڑیوں کے میدان میں واپس نہ آنے پر بھی غور
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پی سی بی نے لنچ بریک سے قبل ہی اسکائی اسپورٹس سے رابطہ کرکے انٹرویو نشر کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی لنچ بریک کے بعد میدان میں واپس نہ آنے کے آپشن پر غور کرسکتے ہیں۔
گفتگو کے دوران اسکائی اسپورٹس نے انٹرویو کی نشریات کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیں، تاہم بعد میں پروگرام نشر کردیا گیا۔
انٹرویو کے اختتام تک پاکستانی کھلاڑی دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ پاکستانی ٹیم کو دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر میدان میں واپس آنا تھا۔
مائیک ایتھرٹن نے لارڈز میں انٹرویو کیا
مائیک ایتھرٹن نے قاسم اور سلیمان خان سے بدھ کی صبح لارڈز کے رائٹرز روم میں گفتگو کی تھی۔ اسکائی اسپورٹس نے ٹیسٹ میچ سے قبل اس انٹرویو کا ایک مختصر ٹیزر بھی نشر کیا تھا۔
پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کی نشریات کرنے والے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے عمران خان کے بیٹوں کا یہ انٹرویو نشر نہیں کیا۔
انٹرویو نشر ہونے کے باوجود پاکستانی ٹیم مقررہ شیڈول کے مطابق دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپس آگئی اور میچ جاری رکھا۔
عمران خان کی صحت بھی زیر بحث
عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں اور حالیہ ہفتوں میں ان کی صحت کا معاملہ بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ان کے بیٹوں نے اپنے والد کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں شفا اسپتال کے بجائے سرکاری پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں شفا اسپتال منتقل نہ کرنا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو اپنے ذاتی ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
حکومت نے الزامات مسترد کردیے
دوسری جانب پاکستان حکومت نے گزشتہ ہفتے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک بیان میں عمران خان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کیے جانے یا انہیں اہل خانہ اور وکلا سے رابطے کی اجازت نہ دینے کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
حکومت کے مطابق اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں کی جانب سے 900 سے زائد ملاقاتیں کی جاچکی ہیں۔
شائع ہوا: 28 اگست، 2026 کو 06:52 AM
آخری تدوین: 28 اگست، 2026



