روسی صدر پوتن کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ترکمانستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، روس ایران تجارتی تعاون میں اضافے اور علاقائی تنازع کے پرامن حل کے لیے تہران کو ہر ممکن مدد کی پیشکش
ترکمانستان: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں علاقائی تنازع کے پرامن حل کے لیے تہران کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنی استطاعت کے مطابق ایران کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ترکمانستان کے شہر ترکمان باشی میں ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران روسی صدر نے ایرانی ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی حال ہی میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ترکمانستان میں ہونے والی ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات، علاقائی صورتِ حال اور جاری سیاسی عمل کا جائزہ لینے کا ایک اور موقع ہے۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اور ایران کے تعلقات گزشتہ سال کے آغاز میں طے پانے والے بنیادی معاہدے کی بنیاد پر مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں 21 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران بھی یہ مثبت رجحان برقرار رہا۔
روسی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی اور ثقافتی تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور ایران میں اس شعبے سے متعلق متعدد مشترکہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔
پوتن نے ایرانی صدر سے کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر تک ان کی نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے اس موقع پر روس اور ایران کے تعلقات کو مسلسل مضبوط ہوتا ہوا قرار دیا۔
علاقائی بحران کے حل کے لیے روس کی پیشکش
ملاقات میں علاقائی صورتِ حال اور جاری تنازع خاص طور پر زیر بحث آئے۔ صدر پوتن نے کہا کہ خطے میں جاری تنازع اس وقت سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایران کی وجہ سے شروع نہیں ہوا، جبکہ تہران اسے ختم کرنے کے لیے حقیقی کوششیں کررہا ہے۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے علاقائی بحران کے پرامن حل کے لیے نئی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس اس صورتِ حال کے حل میں ایران کی مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
اس ملاقات کو روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی توجہ مرکوز ہوئی۔
شائع ہوا: 9 اکتوبر، 2026 کو 04:27 AM
آخری تدوین: 9 اکتوبر، 2026



