ٹرمپ نے ایران کی روس اور چین سے مدد لینے کی خبروں کو مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو روس اور چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر مدد فراہم کیے جانے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماسکو یا بیجنگ نے تہران کی مدد کی تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس اور چین ایران کو بڑے پیمانے پر مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ ماسکو اور بیجنگ تہران کی مدد کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے پاس اس تنازع میں مداخلت کی صورت میں کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ناقدین اور مخالفین کے دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند بائیں بازو کے بعض افراد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں، تاہم انہیں اس بات پر بالکل یقین نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق اگر روس اور چین کی جانب سے ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کی بھی جا رہی ہے تو ممکنہ طور پر یہ محدود سطح پر ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں فی الحال ایسی کسی معاونت کا یقین نہیں ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ماسکو یا بیجنگ ایران کی مدد کر رہے ہوتے تو واشنگٹن کو اس کا علم ہو جاتا، بلکہ امریکی حکام کو اس بارے میں بہت جلد پتا چل جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس اور چین نے تہران کی مدد کی تو انہیں اس کے سنگین نتائج اور بھاری قیمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
روس اور چین کو ٹرمپ کی تنبیہ
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی ایران کے معاملے پر روس اور چین کو خبردار کیا تھا۔ جولائی میں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر ماسکو اور بیجنگ نے تنازع میں مداخلت کی تو اس کے نتائج ان کے لیے انتہائی منفی ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے میں روس اور چین کے ممکنہ کردار پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم امریکی صدر نے ایران کو دونوں ممالک کی جانب سے مدد فراہم کیے جانے کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ روس اور چین کی جانب سے ایران کو مبینہ معاونت کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوؤں اور امریکی صدر کے بیان میں فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے، لیکن ان کے بیان میں کسی ممکنہ محدود معاونت کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔
شائع ہوا: 13 اکتوبر، 2026 کو 06:00 AM
آخری تدوین: 13 اکتوبر، 2026



