وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکی سپریم کورٹ کا ڈی پورٹیشن کیسز ملتوی کرنے کا اختیار بحال کرنے سے انکار

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر27 اکتوبر، 2026
امریکی سپریم کورٹ کا ڈی پورٹیشن کیسز ملتوی کرنے کا اختیار بحال کرنے سے انکار

امریکی سپریم کورٹ نے ڈی پورٹیشن کیسز ملتوی کرنے کا اختیار بحال کرنے سے انکار کردیا۔ فیصلے سے بعض تارکینِ وطن کے امیگریشن مقدمات متاثر ہو سکتے ہیں

واشنگٹن:امریکہ میں تارکینِ وطن کے بعض مقدمات کی سماعت مؤخر کرنے کی گنجائش محدود رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے منگل، 27 اکتوبر 2026 کو تین امریکی شہروں اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک قانونی ادارے کی ہنگامی درخواست مسترد کردی، جس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ اور ریاست ٹیکساس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ فی الحال نافذ رہے گا۔

یہ معاملہ محض عدالتی کارروائی کے شیڈول تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق اس اختیار سے ہے جس کے تحت امیگریشن جج بعض حالات میں کسی تارکِ وطن کی ملک بدری کا مقدمہ عارضی طور پر فعال سماعتوں کی فہرست سے ہٹا سکتے تھے۔

امیگریشن مقدمات میں التوا کی گنجائش کیوں محدود ہوئی؟

اس قانونی تنازعے کی بنیاد جون 2026 میں پڑی، جب ٹیکساس نے امریکی محکمہ انصاف کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ تنازعے کا مرکز 2024 میں متعارف کرایا گیا وہ ضابطہ تھا جس کے تحت امیگریشن جج بعض حالات میں مقدمات کو عارضی طور پر روک سکتے تھے، خصوصاً جب متعلقہ تارکِ وطن کی کسی دوسری درخواست یا قانونی کارروائی کا نتیجہ زیرِ انتظار ہو۔

ٹیکساس اور وفاقی حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد یہ ضابطہ نافذ العمل نہیں رہا۔ ریاست کا مؤقف تھا کہ مقدمات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے سے ملک بدری کی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

بالٹی مور سمیت تین شہروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

اس فیصلے کو چیلنج کرنے والوں میں بالٹی مور، کولمبس اور نیو ہیون کے علاوہ تارکینِ وطن کو قانونی معاونت فراہم کرنے والا ادارہ سینٹرو لیگل ڈی لا رازا (Centro Legal de la Raza) شامل تھا۔ ان درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ٹیکساس اور وفاقی حکومت کے معاہدے پر عمل درآمد روک کر امیگریشن ججوں کو مقدمات عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اختیار دوبارہ دیا جائے۔

عدالت نے ہنگامی درخواست مسترد کردی۔ اس حکم میں تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، تاہم اس کا فوری نتیجہ یہ ہے کہ زیرِ تنازع ضابطے کی بحالی کے لیے درخواست گزاروں کو مطلوبہ عدالتی ریلیف نہیں ملا۔

تارکینِ وطن اور گرین کارڈ رکھنے والوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اس فیصلے سے بعض امیگریشن مقدمات میں کارروائی مؤخر کرانے کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی دوسری امیگریشن درخواست یا قانونی کارروائی کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہو۔

تاہم، سپریم کورٹ کے اس حکم کو تمام تارکینِ وطن کی ملک بدری کا عمومی حکم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح صرف اس فیصلے کی بنیاد پر گرین کارڈ رکھنے والوں کی قانونی حیثیت خودبخود ختم نہیں ہوتی۔ ہر معاملے کا انحصار متعلقہ فرد کی امیگریشن حیثیت، مقدمے کے حقائق اور قابلِ اطلاق قانون پر ہوگا۔

فی الحال معاہدہ برقرار ہے، جبکہ اس کے قانونی اثرات سے متعلق تنازعے میں مزید عدالتی کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 27 اکتوبر، 2026 کو 05:33 PM

آخری تدوین: 27 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی پاسپورٹ کے لیے شہریت کا فزیکل ثبوت لازمی، ڈیجیٹل برتھ سرٹیفکیٹ قبول نہیں
امریکا

امریکی پاسپورٹ کے لیے شہریت کا فزیکل ثبوت لازمی، ڈیجیٹل برتھ سرٹیفکیٹ قبول نہیں

امریکی پاسپورٹ کے حصول کے لیے صرف موبائل فون میں محفوظ پیدائشی سرٹیفکیٹ دکھانا کافی نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سرکاری ہدایات کے مطابق، درخواست گزاروں کو شہریت ثابت کرنے کے لیے قابلِ قبول فزیکل دستاویز پیش کرنا ہوتی ہے، جبکہ اس دستاویز کی فوٹو کاپی بھی درخواست کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے

محمد نعیم اختر27 اکتوبر، 2026
ایران کے میزائل یورپ اور امریکی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکا

ایران کے میزائل یورپ اور امریکی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ تک پہنچنے کے علاوہ سان ڈیاگو اور لاس اینجلس سمیت امریکا کے مختلف شہروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں

Web Desk27 اکتوبر، 2026
 امریکی صدر کا انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کیلئے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان
امریکا

امریکی صدر کا انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کیلئے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے دس لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کر دیا

Web Desk27 اکتوبر، 2026