کارکنوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے، واپسی کا فیصلہ کیا ہے: علی امین گنڈاپور

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کارکنوں سمیت واپسی کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستے بند ہیں اور کارکنوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ دوسری جانب سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی لانگ مارچ جاری ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
ڈیرہ اسماعیل خان: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کارکنوں سمیت واپس اپنے گھر پہنچنے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد ان کی قیادت میں قافلہ واپس روانہ ہوگیا۔
پولیس کی جانب سے یارک ٹول پلازہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ بند کیا گیا تھا، جس کے باعث قافلے کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ علاقے میں تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کی جانب سے کارکنوں کو توڑ پھوڑ سے گریز کرتے ہوئے تحریک کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے، اسی لیے واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راستے بند ہیں اور آگے نہیں جاسکتے، اس لیے عملی صورتحال کو دیکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹک ٹاک والی باتیں نہ کریں‘‘ بلکہ زمینی اور عملی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ جاریدوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور بنوں سے کارکن قافلے میں شامل ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے شرکاء آج رات کرک کے قریب قیام کریں گے، جس کے بعد قافلہ آئندہ مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔
شائع ہوا: 5 اکتوبر، 2026 کو 04:32 AM
آخری تدوین: 5 اکتوبر، 2026



