مذاکرات میں حکومتی وفد نے سیاسی اور دہشتگردی کے معاملات کو جوڑ دیا: علامہ ناصر عباس

قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات میں حکومتی وفد نے دہشتگردی سے متعلق شرائط کو سیاسی معاملات کے ساتھ نتھی کردیا، جس کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی
اسلام آباد: قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے دہشتگردی اور صوبے سے متعلق معاملات کو سیاسی معاملات کے ساتھ جوڑ دیا، جس کے باعث مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
علامہ ناصر عباس کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ جو کچھ تحریری طور پر موجود ہے، اسے بغیر کسی تبدیلی کے تسلیم کیا جائے تو ہی دیگر معاملات کو تسلیم کیا جائے گا۔
دہشتگردی سے متعلق نکات کو سیاسی معاملات سے جوڑنے کا دعویٰعلامہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومتی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی کے حوالے سے تحریر کیے گئے نکات کو تسلیم کیا جائے گا تو ہی سیاسی معاملات کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کو جرگے میں شامل کرکے جو فیصلے کیے گئے تھے، پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ ان متفقہ فیصلوں کو تسلیم کیا جائے۔
مذاکرات میں پیش رفت کیوں نہ ہوسکی؟قائد حزب اختلاف سینیٹ نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ تمام معاملات پر متفقہ فیصلے کیے جائیں، تاہم دونوں معاملات کو آپس میں جوڑ دیا گیا، جس کے باعث مذاکرات سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی معاملات پر بات چیت کے دوران کسی فریق پر ایک معاملہ تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر اس کے بدلے دوسرا معاملہ منوانا قابل عمل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مذاکرات میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی دھمکیاں ملتی ہیں اور وہ بھی ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات پر زورعلامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مل بیٹھنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر مسائل پر بات کرے گی تو معاملات حل ہوسکتے ہیں، بصورت دیگر ان کے بقول سیاسی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
شائع ہوا: 6 اکتوبر، 2026 کو 05:08 AM
آخری تدوین: 6 اکتوبر، 2026



