مقدس مقامات پر حملے مذہبی و انسانی اقدار کے منافی ہیں، امام کعبہ

امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے مقدس مقامات پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مذہبی اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا، جبکہ پاکستان اور او آئی سی نے بھی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا
مکہ مکرمہ: امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقامات کو نشانہ بنانا مذہبی اور انسانی اقدار کے منافی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اپنے بیان میں شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ اسلام انسانی جان، مال اور عزت کے تحفظ اور جارحیت کی ممانعت کا درس دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
امام کعبہ نے عوام پر زور دیا کہ وہ افواہوں سے خبردار رہیں اور معلومات صرف مستند ذرائع سے حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا اتحاد اور قومی یکجہتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بنیادی قوت ہے۔
شیخ عبدالرحمان السدیس نے سعودی عرب، اس کی قیادت، عوام، مقدس مقامات، وہاں خدمات انجام دینے والے افراد اور سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے بھی دعا کی۔
پاکستان کا بھی حوثی حملوں پر ردعمل
پاکستان نے بھی سعودی عرب کے شہروں پر یمن کے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے یمن کے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں فوری تیزی لانے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثی حملوں سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باب المندب کے گرد حوثی حملوں کا پھیلاؤ سنگین کشیدگی کا باعث ہے، جبکہ یمن کی بگڑتی صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
او آئی سی کی شدید مذمت
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ کے مطابق ایسے حملوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا، مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت پامال کرنا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور اسلامی اقدار، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے۔
او آئی سی نے مقدس مقامات کی بے حرمتی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی اور ایسے حملوں کی روک تھام پر زور دیا۔
مکہ کی فضائی حدود میں ڈرون مار گرائے جانے کا دعویٰ
دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کردیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ڈرون کو مکہ مکرمہ کے گرد ممنوع فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مقدس مساجد کا تحفظ ریڈ لائن ہے اور فوجی اتحاد حوثیوں کے خلاف ضروری اقدامات کرے گا۔
شائع ہوا: 16 ستمبر، 2026 کو 05:49 AM
آخری تدوین: 16 ستمبر، 2026



