بنگلہ دیش کا پاک، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا عندیہ

بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے امکان پر مثبت ردِعمل دے دیا۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر قومی مفادات، عالمی معیشت اور تجارت میں بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے گا
ڈھاکا: بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ اقتصادی و دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے امکان پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
بنگلہ دیشی خبر ایجنسی کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بنگلہ دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ اقتصادی یا دفاعی فریم ورک کا حصہ بننے کے امکان کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
ہمایوں کبیر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بنگلہ دیش کے قومی مفادات، عالمی معیشت اور تجارت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کے تحت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور عوامی روابط بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان جلد سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے۔ اس دورے کے دوران علاقائی تعاون، تجارت اور باہمی تعلقات سمیت مختلف امور پر بات چیت متوقع ہے۔
شائع ہوا: 22 اگست، 2026 کو 01:02 PM
آخری تدوین: 22 اگست، 2026



