آئی سی سی نے طالبان کے 4 اہم رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پبلک کردیئے

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سلب کرنے کے الزامات میں طالبان کے 4 اہم رہنماؤں کے پہلے سے جاری وارنٹ گرفتاری پبلک کردیئے
دی ہیگ: انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سلب کرنے کے الزامات سے متعلق طالبان کے چار اہم رہنماؤں کے پہلے سے جاری وارنٹ گرفتاری عوامی کردیئے ہیں۔
عالمی عدالت کی جانب سے پبلک کیے گئے وارنٹس میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم شامل ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق ہیبت اللہ اخونزادہ اور عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری 8 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے تھے، جبکہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹ 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے۔
خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سلب کرنے کا الزامانٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے مطابق چاروں طالبان رہنماؤں پر خواتین اور لڑکیوں سمیت طالبان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے افراد کے خلاف صنفی اور سیاسی بنیادوں پر مبینہ ظلم و ستم کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہارِ رائے، نجی زندگی اور خاندانی زندگی سمیت متعدد بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق مبینہ جرائم کا سلسلہ 15 اگست 2021 سے کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہا۔
قتل، قید اور تشدد کے الزامات بھی شاملعالمی عدالت نے طالبان کی پالیسیوں سے منسلک مبینہ کارروائیوں میں قتل، قید، تشدد، ریپ اور جبری گمشدگیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے یا ان کے حامی سمجھے جانے والے افراد کو بھی مبینہ طور پر سیاسی مخالفین کے طور پر نشانہ بنایا گیا۔
وارنٹس پبلک کرنے کا مقصد کیا ہے؟انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا کہنا ہے کہ وارنٹ گرفتاری عوامی کرنے کا مقصد مزید مبینہ جرائم کی روک تھام اور عالمی تعاون کو بڑھانا ہے۔
عدالت کے مطابق چاروں طالبان رہنما تاحال گرفتار نہیں ہوئے اور ان کے خلاف جاری وارنٹس پر عمل درآمد باقی ہے۔
طالبان قیادت کے خلاف وارنٹس گرفتاری سامنے آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کے حقوق اور طالبان حکومت کی پالیسیوں سے متعلق عالمی قانونی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
شائع ہوا: 6 اکتوبر، 2026 کو 08:35 AM
آخری تدوین: 6 اکتوبر، 2026



