بھارت میں احتجاج پر پابندی کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا اعلان، دو مرکزی رہنما گرفتار

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کی پابندی ماننے سے انکار کر دیا۔ دوبارہ احتجاج کی کوشش پر پارٹی کے دو مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کرکے پانچ روز کے لیے جیل بھیجنے کا دعویٰ کیا گیا ہے
نئی دہلی: بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے پر عائد پابندی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد دوبارہ احتجاج کی کوشش کے دوران پارٹی کے دو مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، گرفتار دونوں رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ واقعے کے بعد پارٹی نے احتجاج پر پابندی کو مودی حکومت کے خوف کی علامت قرار دیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنتر منتر وہ مقام ہے جہاں احتجاج کے نتیجے میں ماضی میں وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پارٹی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ اسی مقام پر دوبارہ احتجاج کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
احتجاج پر پابندی کے خلاف پارٹی کا مؤقف
پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دینے کے اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سیاسی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق، وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب، گرفتار رہنماؤں کی شناخت، احتجاج پر پابندی کے قانونی جواز اور عدالتی کارروائی کی مزید تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں واضح نہیں کی گئیں۔
شائع ہوا: 14 اکتوبر، 2026 کو 07:12 AM
آخری تدوین: 14 اکتوبر، 2026



