آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، صرف رہنمائی لے سکتی ہے

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ، سپریم کورٹ کے فیصلوں کو صرف رہنمائی قرار دے دیا۔ فضول نظرثانی درخواست پر 25 ہزار روپے جرمانہ اور 50 ہزار روپے سیکیورٹی لازم، بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی درخواست بھی مسترد
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی آئینی عدالت کے لیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے، فضول یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی تو لے سکتی ہے، تاہم وہ ان فیصلوں کی پابند نہیں ہے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کے لیے صرف قائل کرنے والی قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کی کوئی قانونی نظیر آئین اور قانون سے مطابقت رکھتی ہو تو وفاقی آئینی عدالت اسے اختیار کر سکتی ہے۔
فیصلے میں نظرثانی (ریویو) کے دائرہ اختیار کو بھی انتہائی محدود اور مخصوص قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق نظرثانی صرف ریکارڈ پر موجود واضح غلطی یا ایسی کوتاہی کی بنیاد پر ممکن ہے جس سے انصاف کا قتل عام ہونے کا خدشہ ہو۔ نظرثانی کی درخواست کسی مقدمے پر دوبارہ بحث یا مکمل سماعت کا متبادل نہیں ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ فریقین اور وکلا معمول کے طور پر نظرثانی درخواستیں دائر کرنے سے گریز کریں اور صرف حقیقی قانونی بنیاد موجود ہونے پر ہی ایسی درخواست دائر کی جائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فضول یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا متعلقہ فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا، جبکہ درخواست کی سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا بھی لازمی ہوگا۔
فیصلے کے مطابق اگر نظرثانی درخواست مسترد ہو جائے یا اسے فضول اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے تو جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کی جا سکتی ہے۔ مناسب مقدمات میں نظرثانی درخواست زبانی سماعت کے بغیر سرکولیشن کے ذریعے بھی نمٹائی جا سکتی ہے۔
لیو ٹو اپیل سے متعلق اہم وضاحت
وفاقی آئینی عدالت نے آرٹیکل 175F(1)(c) کے تحت ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے لیو ٹو اپیل (اجازتِ اپیل) کو ضروری قرار دیا ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ لیو ٹو اپیل کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ عدالت کی اجازت سے مشروط ہے۔ اجازت ملنے کے بعد ہی درخواست باقاعدہ اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔
عدالت کے مطابق لیو ٹو اپیل مسترد ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی گئی ہے۔ اسی طرح اجازتِ اپیل مسترد کرنے کے لیے عدالت پر تفصیلی وجوہات بیان کرنا بھی لازم نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ غیر تفصیلی حکم یا نان اسپیکنگ آرڈر بذات خود نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے کافی جواز نہیں ہے۔ لیو ٹو اپیل کے مرحلے پر عدالت کسی قانونی سوال یا انصاف کے قتل عام کو روکنے کی ضرورت کا جائزہ لیتی ہے۔
بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد
وفاقی آئینی عدالت نے مذکورہ اصولوں کی روشنی میں بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد کردی اور جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت کے مطابق کمپنی اپنی درخواست میں ریکارڈ پر موجود کسی ایسی واضح غلطی کی نشاندہی نہیں کر سکی جو نظرثانی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتی ہو۔ درخواست میں پہلے سے اٹھائے گئے نکات کو ہی دوبارہ پیش کیا گیا تھا۔
عدالت نے لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی درخواست بھی مسترد کردی۔
یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی قانونی حیثیت اور نظرثانی درخواستوں کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
شائع ہوا: 2 نومبر، 2026 کو 05:37 AM
آخری تدوین: 2 نومبر، 2026



