امریکی وسط مدتی انتخابات کے باعث عالمی کرنسی مارکیٹ میں محتاط رجحان، ڈالر مستحکم

عالمی مالیاتی مارکیٹ میں امریکی وسط مدتی انتخابات اور مرکزی بینکوں کے شرح سود فیصلوں کے باعث سرمایہ کار محتاط ہیں۔ ڈالر مستحکم، جبکہ بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا
عالمی مالیاتی مارکیٹ میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی وسط مدتی انتخابات اور مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کے شرح سود سے متعلق فیصلوں پر مرکوز ہیں۔
ایشیائی کاروباری سیشن میں یورو 1.1159 ڈالر پر رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3387 ڈالر پر مستحکم رہا۔ ڈالر انڈیکس بھی 101.94 کی سطح پر برقرار رہا۔ دوسری جانب جاپانی ین اور نیوزی لینڈ کے ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کرپٹو مارکیٹ میں بھی گزشتہ ہفتے بائنانس پر سائبر حملے کے بعد دباؤ دیکھا گیا، تاہم آج بٹ کوائن 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ 77 ہزار 975 ڈالر جبکہ ایتھر 0.27 فیصد اضافے کے بعد 2 ہزار 268 ڈالر پر پہنچ گیا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی وسط مدتی انتخابات، اکتوبر کے روزگار کے اعدادوشمار اور آسٹریلیا، برطانیہ، ناروے اور سویڈن کے مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی انتخابات کے نتائج مستقبل کی مالیاتی پالیسی، سرمایہ کاری اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
شائع ہوا: 2 نومبر، 2026 کو 06:30 AM
آخری تدوین: 2 نومبر، 2026



