ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر، کانگریس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کا امکان

امریکا میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہونے کا امکان، ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، مہنگائی اور ایران جنگ انتخابی نتائج پر اثرانداز، ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے کی توقع
واشنگٹن: امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور سیاسی مستقبل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ متعدد ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی منعقد ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات صدر کی کارکردگی پر عوامی رائے کا امتحان بھی ہیں۔ مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں، پٹرول کے نرخ اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے معاملات امریکی ووٹرز کی ترجیحات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے پرامید ہیں۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی برتری کے امکانات
سی بی ایس نیوز کے انتخابی ماڈل کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں 229 نشستیں حاصل کرکے اکثریت حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم ریپبلکنز کے پاس بھی اکثریت برقرار رکھنے کے محدود امکانات موجود ہیں۔

سینیٹ کے انتخابات میں بھی کئی ریاستوں میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ٹیکساس اور کنساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات نے انتخابی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
انتخابی مہم پر ریکارڈ اخراجات اور مصنوعی ذہانت کا استعمال
رپورٹ کے مطابق رواں سال وسط مدتی انتخابات کی سیاسی تشہیر پر 11 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔
انتخابی مہمات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور اشتہارات کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی ویڈیوز میں امیدواروں کے ایسے بیانات اور اقدامات دکھائے جاسکتے ہیں جو حقیقت میں کبھی سامنے نہیں آئے، جبکہ وفاقی سطح پر اس حوالے سے ضابطہ سازی بھی محدود ہے۔
ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے تو ٹرمپ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت نگرانی، تحقیقات اور دفاعی اخراجات میں ممکنہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ایسی صورت میں ایران کے خلاف جنگی اخراجات سمیت مختلف حکومتی اقدامات کانگریس میں شدید بحث کا موضوع بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب انتخابی نتائج کی منظوری اور انتقالِ اقتدار کے عمل سے متعلق خدشات بھی زیرِ بحث ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات امریکی جمہوری نظام میں اختیارات کے توازن اور مستقبل کی سیاسی سمت کے تعین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
شائع ہوا: 1 نومبر، 2026 کو 04:19 PM
آخری تدوین: 1 نومبر، 2026



