خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے آئینی تقاضے مکمل، 12 اضلاع سے دہشت گردی کے خاتمے کا ہدف مقرر: طارق فضل چوہدری
زاہد فاروق ملک16 اکتوبر، 2026
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے آئینی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ حکومت کا ہدف 12 متاثرہ اضلاع سے دہشت گردی کا خاتمہ، افغانستان سے دراندازی کی روک تھام، پائیدار امن کا قیام اور متاثرہ علاقوں کی ترقی ہے
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے تمام آئینی تقاضے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ اب حکومت کی توجہ صوبے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام پر مرکوز ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق ایمرجنسی کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ دوسرے مرحلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آرٹیکل 232 کی منظوری حاصل کی گئی، جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آرٹیکلز 232 اور 234 سے متعلق منظوریوں کا عمل مکمل کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب تیسرے مرحلے میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے گا، جس کے بعد انتظامی کنٹرول اور نظم و نسق صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ بعد ازاں ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوامی محرومیوں کو دور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کے اختیارات کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور ان کی معاونت کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایڈوائزری ٹیم کام کر رہی ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کا بنیادی مقصد صوبے میں امن اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، افغانستان سے دراندازی روکنا اور دہشت گردوں کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مقامی قیادت اور صوبائی انتظامیہ کا تعاون بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت اب ان چیلنجز کی ذمہ داری خود سنبھال کر دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امن قائم ہونے سے نہ صرف شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ پاکستان کی ترقی میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا کی ممکنہ تبدیلی سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان اطلاعات میں فی الحال کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر نے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا، جس میں دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

زاہد فاروق ملک پاکستان کے ممتاز سینئر صحافی، کالم نگار اور میڈیا ایگزیکٹو ہیں۔ وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اس وقت وائسز آف امریکا کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 01:19 PM
آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026



