مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ مربن خام تیل 122 ڈالر جبکہ برینٹ خام تیل 108.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
لندن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں مربن خام تیل کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت بھی مزید ایک فیصد اضافے کے بعد 108.68 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ WTI کی قیمت میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 103 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے سے عالمی توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثیوں کی جانب سے بندرگاہی شہر موخا پر قبضے اور آبنائے ہرمز میں مزید بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے، جس کے اثرات ایندھن کی عالمی قیمتوں اور درآمدی ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 11 ستمبر، 2026 کو 04:51 AM
آخری تدوین: 11 ستمبر، 2026



