فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ؟ اسرائیلی میڈیا کا بڑا دعویٰ

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات فلائی دبئی کے شریک پائلٹ حمام الحَمّامی کو طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش پر سخت ترین سزا دے سکتا ہے، تاہم سزائے موت کے حتمی فیصلے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
اسی موضوع سے پڑھیں
ابوظبی: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے فلائی دبئی کے اس شریک پائلٹ کے خلاف سخت ترین سزا پر غور کیا ہے جس پر اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران طیارے پر قبضہ کرنے اور اسے گرانے کی مبینہ کوشش کا الزام ہے۔
رپورٹس کے مطابق شریک پائلٹ کی شناخت عمانی شہری حمام الحَمّامی کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم دستیاب معتبر رپورٹس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسے سزائے موت دینے کے کسی حتمی فیصلے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اماراتی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور ممکنہ روابط کا تعین کیا جاسکے۔
پرواز میں کیا ہوا تھا؟یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا، جو دبئی سے تل ابیب جارہی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر ایمرجنسی کریش ایکس سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اماراتی پراسیکیوٹر جنرل نے واقعے کو مبینہ دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔
واقعے کے دوران طیارے کی بلندی میں اچانک شدید کمی واقع ہوئی، تاہم کپتان اور دیگر عملے نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں مسافروں اور عملے کے بعض ارکان نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرلیا، جبکہ آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا گیا۔
شریک پائلٹ سے متعلق تحقیقات جاریحمام الحَمّامی ایک عمانی شہری ہے اور مختلف رپورٹس کے مطابق اسے ماضی میں عمان میں پرواز سے متعلق ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا تھا۔ اس حوالے سے مبینہ شدت پسندانہ خیالات سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں، تاہم حکام ابھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس نے اکیلے یہ کارروائی کی یا کسی گروہ یا دوسرے افراد سے اس کے روابط تھے۔
اماراتی حکام کے مطابق تحقیقات میں واقعے کے محرکات، ممکنہ روابط اور ڈیجیٹل و دیگر شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اسرائیلی حکام بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔
سزائے موت سے متعلق دعویٰ تاحال غیرمصدقہاسرائیلی میڈیا کی جانب سے سخت ترین سزا یا ممکنہ سزائے موت سے متعلق دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم فی الحال دستیاب معتبر ذرائع میں اماراتی حکومت یا عدالتی حکام کی جانب سے سزائے موت کے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ملتی۔
واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے اور قانونی کارروائی آگے بڑھنے کے بعد ہی ملزم کے خلاف حتمی سزا کے بارے میں واضح معلومات سامنے آسکیں گی۔
شائع ہوا: 5 اکتوبر، 2026 کو 06:54 AM
آخری تدوین: 5 اکتوبر، 2026



