امریکی انتخابات میں ایلون مسک کی بھاری سرمایہ کاری ناکام، طنزیہ ٹویٹ میں بولے: ’میرے خلائی لیزر کام نہیں آئے‘

امریکی انتخابات میں ارب پتی ایلون مسک کی ری پبلکن امیدواروں کے لیے 455 ملین ڈالر سے زائد مالی معاونت زیرِ بحث آگئی۔ ٹیکساس میں کین پیکسٹن کی شکست کے بعد مسک نے ایکس پر طنزیہ پیغام میں کہا کہ لگتا ہے ان کے انتخابی مداخلت کرنے والے خلائی لیزر اس بار کام نہیں آئے
واشنگٹن : امریکی وسط مدتی انتخابات میں ارب پتی کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کی بھاری مالی سرمایہ کاری بھی ری پبلکن امیدواروں کو کئی اہم انتخابی مقابلوں میں کامیابی نہ دلا سکی، جس کے بعد مسک نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کئی گھنٹوں کی خاموشی کے بعد ایلون مسک نے لکھا:
’’لگتا ہے میرے انتخابات میں مداخلت کرنے والے خلائی لیزر اس بار کام نہیں آئے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی انتخابات میں ان کی مالی معاونت اور سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایلون مسک نے 455 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے
امریکی انتخابی مالی معاونت کے ریکارڈز کے تجزیے کے مطابق ایلون مسک نے ری پبلکن امیدواروں اور قدامت پسند سیاسی مقاصد کی حمایت کے لیے کم از کم 455 ملین ڈالر خرچ کیے۔
مسک کی جانب سے انتخابی مہمات میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری نے انہیں امریکی سیاست میں ایک نمایاں مالی معاون کے طور پر سامنے لایا ہے۔
ان کی توجہ خاص طور پر ان انتخابی مقابلوں پر رہی جہاں ری پبلکن امیدواروں کو ڈیموکریٹ امیدواروں سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔
ٹیکساس میں 200 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری بھی ناکام
ٹیکساس کے سینیٹ انتخابات میں ایلون مسک نے ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کے لیے 200 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔
مسک نے اپنی مالی معاونت کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی پیکسٹن کی حمایت میں سرگرمی دکھائی اور ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو پر تنقید کی۔
تاہم انتخابی نتائج میں جیمز ٹالاریکو نے کین پیکسٹن کو شکست دے دی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے چند برس قبل اپنی رہائش اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک حصہ بھی ٹیکساس منتقل کیا تھا، جس کے باعث اس ریاست کے انتخابی مقابلے میں ان کی دلچسپی خاص طور پر زیر بحث رہی۔
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 09:03 AM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



