اردوان کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ، ایران اور یوکرین جنگوں کے سفارتی حل کے لیے ترکیہ کی کوششوں سے آگاہ کر دیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران جنگ، روس یوکرین تنازع اور آبنائے ہرمز سمیت اہم علاقائی مسائل کے سفارتی حل کے لیے ترکیہ کی کوششوں سے آگاہ کیا
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں ایران جنگ، روس یوکرین تنازع اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ترکیہ کے سفارتی کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے امریکی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت آبنائے ہرمز اور یمن میں درپیش مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گفتگو کے دوران ترک صدر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر رجب طیب اردوان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی ترکیہ کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترک صدر اور امریکی صدر کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر جنگوں کے اثرات کے باعث سفارتی کوششوں کو اہمیت حاصل ہے۔
ترکیہ کی جانب سے ایران جنگ اور روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی عمل کی حمایت کو علاقائی امن و استحکام کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شائع ہوا: 29 اکتوبر، 2026 کو 04:23 AM
آخری تدوین: 29 اکتوبر، 2026



